کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شیر علی مرحوم فوت ہوا ،جس کے ورثاء میں تین بیٹے محمد امین،عبد القیوم،اورسہیل احمد،اور چار بیٹیاں شاہین،کوثرپروین،شازیہ،نازیہ موجود تھیں،، بیوی کا پہلےہی انتقال ہوچکا تھا ، پھر سہیل فوت ہوا، جس کے ورثاء میں ایک بیوہ تابندہ اور ایک بیٹی مریم ، اور دو بھائی عبد القیوم اور محمد امین اور چار بہنیں ہیں، پھر عبد القیوم فوت ہوا، جس کے ورثاء میں ایک بیوہ نصرت اور ایک بھائی محمد امین اور چار بہنیں ہیں، پھر کوثر پروین فوت ہوئی ،جس کے ورثاء میں ایک بھائی محمد امین اور تین بہنیں موجود ہیں، ،شیر علی مرحوم کے نام ایک گھر ہے ، جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ روپے ہے،جو کہ ابھی تک فروخت نہیں کیا گیا،تو مندرجہ بالا ورثاء کے درمیان مذکور مکان کی مالیت کس طرح تقسیم ہوگی، ہر وارث کا کتناحصہ ہوگا؟تفصیل سے جواب دیدیں۔
مذکور شخص کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور مکان سمیت جوکچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا، چاندی،زیورات،نقد رقم اورہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(3/1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس کے کل تین ہزار آٹھ سو چالیس(3840)حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کےبیٹے کوبارہ سو ساٹھ (1260) حصے ، مرحوم کی ہر بیٹی کو چھ سوتیس(630) حصے،مرحوم کی بہومسماۃتابندہ کوچھیانوے(96)حصے ، مرحوم کی دوسری بہومسماۃ نصرت کودوسودس(210) حصے، جبکہ مرحوم کی پوتی کو تین سو چوراسی (384) حصے دئیے جائیں ،جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے بھی واضح ہو رہا ہے ،مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دیئے گئے ہیں ،ملاحظہ ہو۔