السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
عورت کے انتقال کے بعد اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟تین بیٹے ، ایک بیٹی ، شوہر ،والد ،والدہ ، ایک بھائی ، دو بہنیں ،سسر،ساس ،وہ مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں ،اس کا جہیز کا سامان ، کپڑے و دیگر تحائف جو والدین کی طرف سے آیا تھا ،ان کا کیا ہوگا؟ شوہر نے جو تحائف و کپڑے وغیرہ دیے وہ اشیاء وراثت میں شامل ہونگی؟
واضح ہو کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو اس کے گھر والوں کی جانب سے جو جہیز، تحائف اور دیگر سامان کپڑے وغیرہ بطورِ ملکیت دیے جاتے ہیں، اسی طرح جو زیورات وغیرہ شوہر اور اس کے والدین کی طرف سے حق مہر یا بطورِ ہدیہ باضابطہ مالک و قابض بنا کر دیے جاتے ہیں ، یہ سب چیزیں لڑکی کی زندگی میں اسی کی ملکیت شمار ہوتی ہیں ، جبکہ اس کی وفات کے بعدیہ تمام اشیاء اس کا ترکہ شمار ہو کر اس کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوتا ہے ، لہذا مذکور عورت کے انتقال کے بعد جو تحائف کپڑے اور جہیز کا سامان اس کے گھر والوں کی طرف سے دیا گیا تھا ، اسی طرح جو تحائف کپڑےاور زیورات وغیرہ عورت کو اس کے شوہر یا اس کے والدین کی طرف سے حق مہر یا بطورِ ہدیہ باضابطہ مالک و قابض بنا کر دیے گئے تھے ،مرحومہ اپنی زندگی میں ان تمام اشیاء کی مالک بن چکی تھی، لہذا اب اس کے انتقال کے بعد یہ تمام چیزیں اس کا ترکہ شمار ہوکر شوہر ، والدین اور اولاد کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوں گی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحومہ کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، مرحومہ کے کفن دفن کے مصارف شوہر کے ذمہ لازم ہیں ، چنانچہ یہ مصارف اگر شوہر نے یا کسی اور نے بطورِ تبرّع ادا کیے ہوں ،تو اب یہ ترکہ سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے کل چوراسی (84) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحومہ کے شوہر کواکیس (21) حصے ، والدین کو چودہ چودہ (14) حصے ،ہر بیٹے کو دس(10) حصے ،جبکہ بیٹی کوسات (7) حصے دیے جائیں ۔
كما في البحر الرائق : ولو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداده منها وعليه الفتوى ( إلى قوله) لو جهز بنته ثم ادعى أن ما دفعه لها عارية وقالت تمليكا أو قال الزوج ذلك بعد موتها ليرث منه وقال الأب عارية ففي فتح القدير والتجنيس والذخيرة والمختار للفتوى أن القول للزوج ولها إذا كان العرف مستمرا أن الأب يدفع مثله جهازا لا عارية كما في ديارنا وإن كان مشتركا فالقول قول الأب وقال قاضي خان وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل إن كان الأب من الأشراف والكرام لا يقبل قوله إنه عارية وإن كان الأب ممن لا يجهز البنات بمثل ذلك قبل قوله. اهـ. الخ(كتاب النكاح،باب المهر،3،200،دار الكتب الإسلامي)-
و في الدر المختار : جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته)بل تختص به(وبه يفتى)(كتاب النكاح،باب المهر،3،155،:سعيد)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2