اگر ایک شخص نے سود کے مال سے کوئی پراپرٹی وغیرہ بنائی ہو اور اب وہ اس مال کو بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کر کے اتارنا چاہتا ہو تو کیا وہ اسی مال کو صدقہ کرے گا ،جتنی ویلیو میں اس نے وہ گھر بنایا ،یا وہ اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس کا صدقہ کرے گا یعنی اضافی ویلیو کے ساتھ؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق مذکور شخص کے لئے سودی معاملہ کرنا اور سود کی مد میں حاصل شدہ رقم سے مکان خرید کر اپنے استعمال میں لانا تو شرعا ناجائز اور حرام عمل تھا جس پر اسے بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے سودی لین دین سے مکمل اجتناب لازم ہے،تاہم اگر وہ توبہ تائب ہوچکا ہے،تو اب اس کے ذمہ مکان کی خریداری میں صرف کی گئی سودی رقم کے بقدر رقم اس کے مالکان یا ان کے ورثاء کو واپس کرنا لازم اور ضروری ہوگا،البتہ اگر اس کے مالکان یا ان کے ورثاء کا علم نہ ہو یا ان تک یہ رقم پہنچانا ممکن نہ تو ایسی صورت میں سودی رقم کے بقدر رقم فقراء و مساکین پر بلا نیت ثواب صدقہ کرنا لازم اور ضروری ہوگا،مکان کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق اضافی رقم صدقہ کرنا لازم نہیں۔
کما قال تعالی فی تنزیل العزیز:يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُواْ ٱلرِّبَوٰٓاْ أَضۡعَٰفٗا مُّضَٰعَفَةٗۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ (آل عمران ایۃ:130)
فی فقہ البیوع:أمَا فى بيان القسم الأولء تُعبّر عن جميع العقود الباطلة فيما يأتى بالمغصوبء والذى يقبض الحرام هذا المال بالغصب. وذلك لسهولة التَعبير. ويشمّل هذا التتعبير كل مال حرام لأتتلكه الب أ فى الشّرعء و سواءٌ غصباء كان سرقة؛ أو أو رشوة. أو ربأ فى القرضء أو مأخوذاً ببيع ,باطل. وإِنّه حرام للغاصب الانتفاع به أو التَصرفه فيه. فيجب عليه أن يردّه إلى مالكه, أوإلى وارثه بعد وفاته« وإن لم يُمكن ذلك لعدم معرفة المالك أو وارثه أولتعذرالرة عليه لسبب من الأسبابء وجب عليه التَخَلْ صمنه بتصدقه عنه من غير نيّةِ ثواب الصّدقةٍ لنفسه.وهذا الحكمُ عاص سواءٌ أكان المغصوب عَرّضاً أم نقد لأن النقود تتعيّن فى لحنفيّة العغصوبء حتى عند الذين يقولون بعدم تعيّن النقود. كما مر تحقيقه. (الی قولہ)أما ذا كان المتضوب: تدا :وازاه القاضبت« أن يشتري به شيئاًء لايجوز له ذلك قبل أداء الضّمان بالاتفاق. ولكن إن اشترى شيئاً بالنقود المغصوبة قبل أداء الضّمان.(الی قولہ)القول الثالث: قول الكرخي رحمه الله تعالىء وهو أنه لا يطيب؛ له المشترّى وربحه فى الصّورتين الأوليين« ويطيب؛ له فى الصُور الثّلاث الأخيرة؛ لأن البيع فى هذه الصُور لايستند إلى المغصوب بعينه. (ج:2،ص:388)
فیہ ایضا:وذكر كثير من المتأخرين أن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعاً للحرج عن النّاس الخ(ج:2،ص:393،ط:مکتبۃ معارف القرآن کراتشی)