کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے تین بھائی ہیں، اور میرے(عبد الکریم) کےبیٹوں نے آپس میں مل کر اپنی ذاتی رقم سے دو دکانیں بنائی ہیں، اب میرے بیٹوں کا کہنا ہے کہ یہ دکانیں چونکہ ہم نے اپنی ذاتی رقم سے خریدی ہیں اس لئے آپ کے بھائی (چچاؤں) کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس میں میرے بھائیوں کا کچھ حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
نوٹ: ہم تین بھائی مشترکہ طور پر رہائش پذیر تھے اور ابھی تک ہیں،ا ور اب معاملہ کو الگ کرنے کا ارادہ ہے، لیکن یہاں ایک مسئلہ ہمیں درپیش ہے وہ یہ ہےکہ میرے بیٹوں نے اپنی ذمہ داری پر قرض لیکر ایک مستقل کاروبار کاسمیٹک کی صورت میں شروع کیا،اس میں نہ میری کوئی شراکت تھی اور نہ ہی میرے بھائیوں کی، ان کا مستقل الگ اور علیحدہ حساب و کتاب ہے، اب آپ حضرات سے معلوم یہ کرناہےکہ ہمارے بھائیوں کی تقسیم میں میرے بیٹوں کا کاروبار شامل ہوگا یا نہیں؟ جبکہ میرے بھائی بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ میرے بیٹوں نے اپنے طور پر کاروبار کیا ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اور نوٹ میں درج کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کے سائل (عبد الکریم) کے بیٹوں نے اپنی ذاتی رقم یا کسی سے اپنی ذمہ داری پر قرض لیکر کاروبار شروع کیا ہو، اس میں سائل (عبد الکریم) اور سائل کے بھائیوں کی کسی قسم کی کوئی شراکت نہ ہو، بلکہ سائل کے بیٹوں نے ذاتی طور پر یہ معاملہ کیا ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے بیٹوں کا کاروبار شرعاً ان کی ملکیت ہے، اس میں سائل یا سائل کے بھائیوں کاشرعاً کوئی حصہ نہیں، لہذا سائل اور اس کے بھائیوں کے درمیان جائیداد کے بٹوارے میں سائل کے بیٹوں کا کاروبار شامل نہ ہوگا۔
کما فی الدرالمختار : (و ماحصلہ أحدھما فلہ وما حصلاہ معاً فلھما) الخ
و فی الشامیۃ تحت : (قولہ و ما حصلہ أحدھما) أی بدون عمل من الآخر (إلی قولہ) مطلب إجتمعا فی دار واحدۃ و اکتسبا و لا یعلم التفاوت فھو بینھما با لسویۃ (إلی قولہ) ثم ذکر خلافا فی المرأۃ مع زوجھا إذا إجتمع بعملھما أموال کثیرۃ فقیل ھی للزوج و تکون المرأۃ معینۃ لہ، إلا أذا کان لھا کسب علی حدۃ فھو لھا الخ (فصل فی شرکۃ الفاسدۃ ، ج 4 ، ص 325 ، ط: سعید)۔
وفی العقوود الدریۃ : و فی الفتاوی الخیریۃ سئل فی إبن کبیر ذی زوجۃ و عیال و کسب مستقل حصل بسببہ أموالاً و مات ھل ھی لوالدہ خاصۃ أم تقسم بین ورثتہ أجاب ھی للأبن تقسم بین ورثتہ الخ ( کتاب الدعوی ، ج 2 ، ص 17 ، ط: حقانیۃ)۔
و فی شرح المجلۃ : کل یتصرف فی ملکہ کیف شاء لکن إذا تعلق حق القیر بہ یمنع المالک من تصرفہ الخ (فصل فی بیان بعض القواعد الخ ، ج 4 ، ص 132 ، ط: حقانیۃ)۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0