السلام علیکم
وراثت کی تقسیم کے حوالے سے چند سوالات کے جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں در کار ہیں ۔
سوال نمبر 1: میری والدہ محترمہ نے ترکہ میں جو مال چھوڑا ہے اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ورثاء کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
1:والدہ کے والد اور والدہ پہلے وفات پاگئے ۔
2:شوہر حیات نہیں پہلےوفات پاگئے۔
3:چار بیٹے ، تمام بیٹے حیات ہیں ۔
4:تین (3) لڑکیا ں ، دو(2) لڑکیاں حیات ہیں اور ایک وفات پاگئیں ( والدہ کے انتقال سے قبل)
سوال نمبر 2: مرحومہ کے ترکہ میں سے کیا زندہ وارثوں کو ہی حصہ ملے گا؟اور اگر نہیں تو جو اولاد والدین کی حیات میں وفات پاگئی اس کا حصہ نہ ہونے کی قرآن و سنت کی روشنی میں دلیل ، نیز کیامرحوم اولاد کی اولاد کو ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا ؟
واضح ہوکہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں صرف ان ورثاء کو حصہ ملتا ہے جو مرحوم کے انتقال کے وقت زندہ ہو ں اور اس دوران کوئی دوسرا مانعِ ارث (یعنی مثلاً وارث کا مرحوم کا قاتل ہونا ،اختلاف ِدین میں سے کوئی صورت )موجود نہ ہو چنانچہ جو ورثاء مرحوم کی زندگی میں انتقال کر چکے ہوں ، تو ان کی اولاد مرحوم کے ترکہ میں حصہ دار نہیں ہوتی ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ مرحومہ کے ترکہ میں ان کے انتقال کے وقت زندہ موجود ورثاء ہی حصہ دار قرار پائیں گے ، جبکہ اس کی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی کی اولاد کا اپنی نانی کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا ، البتہ اگر دیگر ورثاء انہیں اپنی مرضی سے کچھ دینا چاہیں تو انہیں اختیار ہے تاہم ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ،
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کی والدۂ مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد سونا ، چاندی ،زیورات ، نقد رقم اور ہر طرح کا ساز وسامان چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کاترکہ ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے کل دس(10) حصے بنائے جائیں جن میں سے ہر بیٹے کو دو(2) حصے جبکہ ہر بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے .
کما فی الدر: ھی علم بأصول من فقہ و حساب الخ
و فی الرد تحت( قولہ ) ھی علم بأصول الخ ) ای قاعد و ضوابط تعرف( الی قولہ) وشروطہ ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ، أو حکما کمفقود أو تقدیرا کجینین فیہ غرۃ ، و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیرا کا الحمل و العلم بجھۃ ارثہ الخ کتاب الفرائض، ج 6، ط: ایچ ایم سعید )
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0