کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرو کے والد نے بوقتِ انتقال یہ وصیت کی تھی کہ فلاں فلاں شخص کا قرض میرے ذمہ ہے، ادا کر دینا، تو عمرو نے وہ قرض ادا کر دیا اور جس وقت والد کا جنازہ رکھا تھا عمرو نے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ جس شخص کا قرض میرے والد کے ذمہ ہو وہ ہم سے رجوع کرے ،اس وقت بھی جن لوگوں نے قرض کا مطالبہ کیا ان کو عمرو نے قرض ادا کیا، لیکن کئی مہینوں کے بعد جبکہ وراثت بھی تقسیم ہوگئی تھی ،زید نے دعوی کر دیا کہ میرا قرض بھی تمہارے والد کے ذمہ تھا ،عمرو کہتا ہے کہ تم نے اس وقت کیوں نہیں مطالبہ کیا، زید کہتا ہے کہ مجھے ابھی پیسوں کی سخت ضرورت پیش آئی ہے ،یاد رہے کہ زید یہ دعویٰ بالمشافہ عمرو سے نہیں کرتا، بلکہ بکر کے توسط سےکرتا ہے، جبکہ زید کا گواہ بھی صرف بکر ہی ہے ،اس کے علاوہ زید کے پاس کوئی گواہ بھی نہیں ہے اور بکر بھی صرف اس حد تک گواہ ہے کہ میرے سامنے تمہارے والد نے زید سے بطورِ قرض کے کچھ رقم مانگی تھی، باقی قرض بکر کے سامنے دیا نہیں ہے ۔درجِ ذیل امور دریافت طلب ہیں :
(1) آیا عمرو پر زید کا قرض ادا کرنا واجب ہے؟ (۲) اگر ادا کرنا واجب ہے تو عمر و اکیلا قرض اداکرے گا یا تمام ورثاء کے مال سے ؟ (۳) آیا عمرو، زید سے گوا ہوں کا مطالبہ کر سکتا ہے ؟ (۴) اگر گواہوں کا مطالبہ کر سکتا ہےتو شرعی گواہی کیا ہے ؟ (۵) اور اگر زید شرعی گواہی پیش نہ کر سکے تو زید ہی سے عمر و قسم کا مطالبہ کر سکتا ہے (۶) اور اگر زید شرعی گواہی پیش نہ کر سکے اور قسم بھی اس سے نہ لی جاسکے یا لی جا سکے مگر زید قسم نہ اٹھائے تو عمرو اس کا قرض ادا کرےیا نہیں؟ اگر نہیں ادا کرے تو احتمالی صورت میں اگر عمرو کے والد نے قرض لیا ہو تو آخرت میں عمرو کے والد کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا یا نہیں ؟
اگر شخصِ مذکور کے والد نے زید سے متعلق قرض کی ادائیگی کی صراحت نہ کی ہو اور زید کے پاس اسے قرض دینے کا بینۂ شرعیہ موجود ہو تو اس صورت میں شخصِ مذکور یا اس کے بھائیوں پر قرض کی ادائیگی قضاءً لازم نہیں ،تاہم اگر اسے زید کے سچا ہونے کا یقین یا گمان غالب ہو تو باتفاقِ ورثاء جمیع ترکہ سے یا کسی وارث کا اپنے حصہ سے اس کا ادا کر دینا بہتر ہے۔
کمافی مشکوۃ المصابیح: عن ابن عباس مرفوعاً،لکن البینۃ علیٰ المدعی والیمین علیٰ من انکر (ص/366)۔
وفی المرقات: قال النووی ھذا الحدیث قاعدۃ شریفۃ کلیۃ من قواعد احکام الشرع،ففیہ انہ لایقبل قول الانسان فیما یدعیہ بمجرد دعوہ،بل یحتاج الیٰ بینۃ او تصدق المدعی علیہ(الیٰ قولہ) وقد بین ﷺ الحکمۃ فی کونہ لایعطی بمجرد دعواہ انہ لو اعطی بمجردھا لادعی قوم دماء قوم واموالھم واستبیح ولایتمکن المدعی علیہ من صون مالہ ودمہ اھ(7/336)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2