کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب مرحوم نے اپنی وفات سے تقریباً سولہ سترہ سال سال قبل ہی کام کاج کرنا چھوڑ دیا تھا ، گھر کے خرچ و اخرا جات ہم بھائی مل کر پورا کرتے تھے ، ہم کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھے ، میرے بھائی مسمیٰ شاکر ملک سے باہر جاب کرتے ہیں، اور میں یہاں پاکستان میں جاب کرتا ہوں، آج سے تقریباً چھ سات سال قبل والد صاحب مرحوم نے مجھ سے اور میرے بڑے بھائی مسمیٰ شاکر سے ایک مکان خریدنے کے حوالے سے بات کی، جس پر ہم دونوں بھائیوں نے آمادگی کا اظہار کیا ، میرے والد صاحب مرحوم نے ایک مکان بُک کروایا، ہم دونوں بھائیوں نے حسبِ استطاعت تقریباً ڈیڑھ سال میں گھر کی قسطیں ادا کر دیں ، والد صاحب کی وفات کے ایک ہفتہ قبل ہم اس مکان میں شفٹ ہو گئے ، اور والد صاحب مرحوم کے انتقال کے بعد وہ مکان والدہ کے نام کر دیا گیا ، اب ہماری والدہ محترمہ کا بھی انتقال ہو چکا ہے ۔ اب آپ حضرات سے معلوم یہ کرنا ہے کہ اس مکان میں میری بہنوں کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ مکان خریدنے سے تقریباً چھ سات سال قبل بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں، اور یہ مکان میرے اور میرے بڑے بھائی مسمیٰ شاکر کی کمائی سے خریدا گیا ہے، جس میں تقریبا ًستر فیصد میرے بھائی کے پیسے لگے ہونگے ،اور تیس فیصد میرے ، والد صاحب مرحوم نے یہ بات کہی تھی کہ بیٹیوں کی شادی کر کے میں فارغ ہو چکا ہوں، اور یہ مکان میں اپنے بیٹوں کے لئے خرید رہا ہوں ، اور یہ بات میری بہنوں اور والدہ سب کے علم میں تھی کہ یہ مکان ان دونوں بھائیوں کا ہے، لیکن اب والدہ کے انتقال کے بعد ہمارے اس مکان میں حصے کا مطالبہ کر رہی ہیں ، شریعت کی رو سے جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
جب گھر کی کفالت سائل اور اس کے بھائی کے ذمہ تھی ،اور والدین بھی ان کے زیر کفالت تھے، تو والد کی رائے پر ان کا اپنی ذاتی رقم سے خریدا ہوا مکان بھی سائل اور اس کے بھائی کے درمیان مشترک ہوگا ،جبکہ بقول سائل کے والد نے بھی بک کراتے وقت انہی کیلئے لینے کی صراحت کردی تھی،لہذا والدہ کے محض نام کرنے سے وہ مکان اس کی ملک نہیں بنا، اس لئے اب والدہ کی وفات کے بعد بہنوں کا دعوی درست نہیں۔
كما في شرح المجلة : انه لولم يكن للأب عمل ولا كسب بل العمل والكسب للابن يكون المال المتحصل للابن خاصة لأن الأب حينئذ في عيال ابنه وهو ظاهر اھ (۲/ ۳۲) ۔
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، (5/ 690)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (صح الرجوع فيها بعد القبض) أما قبله فلم تتم الهبة اھ (5/ 698)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2