کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب نے میری والدہ کو 2001ء میں طلاق دیدی تھی، والدہ ہماری وجہ سے ہماری ہاں رہی ،اپنے میکے نہیں گئی ،پردے کے ساتھ والد والدہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے، جس کے متعلق ہم نے آپ کے یہاں سے فتویٰ بھی لیا تھا، اب والد صاحب کا انتقال ہوا ہے، والد صاحب کی پینشن والدہ کے نام پر ہے،کیا ہم لے سکتے ہیں ؟کیونکہ اگر ہم مرحوم کی بیوہ ظاہر کریں، تو یہ پینشن جاری رہ سکتی ہے، لیکن چونکہ انہوں نے زندگی میں طلاق دیدی تھی بیوہ تو نہیں کہلائے گی۔
نوٹ: پینشن کی رقم بیوہ خود نہیں لے کرگئی، بلکہ ان کی بیٹی کی شادی کے لئے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے لینا چاہتے ہیں، خود بیوہ پر ایک روپیہ بھی حرام ہے۔
گورنمنٹ کے متعلقہ ادارے کی طرف سے مذکور پینشن اگر صرف بیوہ کا حق ہو ،اور اسے ہی دی جاتی ہو تو اس صورت میں مرحوم کی کوئی بیوہ نہیں، اس لئے مطلقہ کو بیوہ ظاہر کر کے پینشن لینا دھوکہ دہی ہے ،اور یہ شرعاً بھی ناجائز وحرام ہے ، اس لئے مذکور رقم کے لینے سے احتراز لازم ہے، الاّ یہ کہ ادارہ خود کسی دوسرے وارث کے نام جاری کردے۔
ففي مرقاة المفاتيح: «من غش فليس منا» " ورواه الطبراني في الكبير وأبو نعيم في الحلية عن ابن مسعود بلفظ " «من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار» ". (5/ 1935) ۔