کیا فر ماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم ایک والدہ سے پانچ بھائی بہن ہیں ، اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹا ہوں ، اس وقت میری عمر 30 سال کے قریب ہے، میری والدہ مجھے ۶ ماہ کی عمر میں چھوڑ کر اس دنیا سے رحلت فرماگئیں، میرے والد نے دوسری شادی کرلی ،میرے والد نے دو پلاٹ خریدے، جس میں سے ایک پلاٹ میرے بڑے بھائی کے نام صرف اس لئے کر دیا کہ اس میں تم تمام پانچ بھائی بہنوں کا حصہ ہے، اب میرے والد اپنا اور میرے بھائی کے نام جو پلاٹ ہے، دونوں کو فروخت کر دینا چاہتے ہیں ، اور کسی بھی بھائی بہن جو پہلی والدہ سے ہیں، ان کو کوئی حصہ نہیں دینا چاہتے ہیں ۔ جب کہ وہ خود زندگی اور موت کے کشمکش میں مبتلا ہیں،وراثت کے اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام ؟
سائل کے والد اگر واقعۃً ایسے بیمار ہوں کہ موت اور زندگی کے کشمکش میں ہوں ،تو ان کا مذکور معاملۂ بیع درست نہیں، بلکہ دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہے، جبکہ ان کا مذکور پہلی بیوی سے ہونے والی اولاد کو بالکل محروم کرنے کی بات کرنا بھی گناہ پر مبنی ہے، جس سے احترار لازم ہے ۔
ففي الدر المختار: وبيع المريض لوارثه على إجازة الباقي اھ(5/ 112)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: على إجازة الباقي) أو على صحة المريض، فإن صح من مرضه نفذ، وإن مات منه ولم تجز الورثة بطل اھ (5/ 112)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2