محترم جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم!
ہنڈی اور حوالہ کے کام کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اگر کوئی پاکستان میں رہتے ہوئے کسی دوسرے شخص کے لئے ہنڈی کا کام کرتا ہو , آیا یہ غیر شرعی ہوگا ؟
واضح رہے کہ حوالہ اور ہنڈی کا کاروبار فی نفسہ جائز ہے، بشرطیکہ ہنڈی کے عقد کے وقت کسی ایک جانب سے مجلس ہی میں رقم پر قبضہ ہو جائے، مگر مروّجہ ہنڈی کا کاروبار شرعاً ممنوع ہے ،اولاً تو اس وجہ سے کہ اس میں معاملہ قرض مشروط بالشرط ہوتا ہے، اور یہ جائز نہیں، اور ثانیاً اس بناء پر کہ قانوناً منع ہے ،اور حکومت کے ہر اس پر قانون پر عمل لازم ہے ،جو کسی اصلِ شرعی کے خلاف نہ ہو ،لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ اس کاروبار سے احتراز کرے۔
وفي الدر المختار: وكرهت السفتجة) بضم السين وتفتح وفتح التاء، وهي إقراض لسقوط خطر الطريق، فكأنه أحال الخطر المتوقع على المستقرض فكان في معنى الحوالة وقالوا: إذا لم تكن المنفعة مشروطة ولا متعارفة فلا بأس. (5/ 350)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0