کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص مولوی ہے اور اس کو کوئی بھی ذریعۂ معاش نہ ملا ،حتیٰ کہ اس نے ایک دوکان چلانی شروع کی ، اب اس دوکان میں منیاری زیادہ ہے ، اس میں بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان پر تصویر ہے ، جو مٹ نہیں سکتی ہیں ، اور اسی دوکان پر نسوار سگریٹ بھی ہیں جو بکتے ہیں ، کیا یہ کاروبار بھی جائز ہے کہ نہیں؟ چونکہ مولوی غریب ہے زیادہ پیسے بھی نہیں ہے، کہ وہ کپڑے کا کاروبار کرے ،لہٰذا اس مسئلہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کرکے مشکور فرمادیں۔ شکریہ
صورتِ مسئولہ میں مذکور تصاویر سے مراد ، اگر وہ تصاویر ہوں ، جو ڈبوں اور پیکٹوں وغیرہ پر بنی ہوتی ہیں ، چونکہ وہ تصاویر خرید و فروخت میں مقصود بالذات نہیں ہوتیں ، اور عام طور پر اس قسم کی تصاویر سے مکمل طور پر بچنا متعذر بھی ہوتا ہے ، لہٰذا اس قسم کی تصاویر کی وجہ سے بیع کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا ، تاہم بہتر یہ ہے کہ اس قسم کی تصویر رکھنے سے بھی حتی الامکان احتراز کیا جائے؟ جبکہ سگریٹ و نسوار کی خرید و فروخت بھی شرعاً جائز اور درست ہے۔
و فی الشامیۃ : قلت: و ألف في حله أيضا سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها (الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان) و تعرض له في كثير من تآليفه الحسان ، و أقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل و لا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره و لا تفتيره ولا إضراره ، بل ثبت له منافع ، فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة و أن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد ، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة و ربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، و ليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل ، و قد توقف النبي - صلى الله عليه وسلم - مع أنه هو المشرع في تحريم الخمر أم الخبائث حتى نزل عليه النص القطعي ، فالذي ينبغي للإنسان إذا سئل عنه سواء كان ممن يتعاطاه أو لا كهذا العبد الضعيف و جميع من في بيته أن يقول هو مباح ، لكن رائحته تستكرهها الطباع ؛ فهو مكروه طبعا لا شرعا إلى آخر ما أطال به - رحمه الله تعالى -الخ(ج۶، ص۴۵۹)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0