کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا کپڑے کا کاروبار ہے ، میں نے اپنے کاروبار میں چار لاکھ روپے لگائے ہوئے ہیں اور مارکیٹ سے بھی ڈھائی لاکھ قرضا لے رکھا ہے ، اور میرے پاس اپنے تین لاکھ روپے بھی موجود ہیں ، کیا میں ان روپوں سے شیئرز کا کاروبار کرسکتا ہوں؟
اور کیا شیئرز کا جو آج کل کاروبار چل رہا ہے جیسا کہ بینک میں فارم آتے ہیں جو بھر کر ، مثلاً پندرہ ہزار روپے کے فی آدمی کے حساب سے ، میں نے لے لیا اور اس کی قرعہ اندازی کے ذریعہ میرا نام نکلا اور نام نکلتے ہی پندرہ ہزار روپے والا شیئرز پچیس ہزار کا ہوگیا ، اور یہ دس کا بھی ہو سکتا ہے ، اور نہ کھلنے کی صورت میں میرے پیسے یعنی پندرہ ہزار واپس بھی آجائیں گے ، تو یہ کاروبار شریعت کی رو سے جائز ہے ؟ جبکہ پیسوں پر پیسے کمانا حرام ہے اور ہم نے نہ تو کوئی چیز اپنے قبضہ میں لی اور نہ ہی کوئی پراپرٹی ، اور اگر جائز ہے تو کوئی حضورِ اکرم ﷺ کے دور کی یا صحابہ کرامؓ کے دور کی مثال دے کر ہماری رہنمائی فرمائیں اور اگر جائز ہے تو اس کاروبار سے عوام پر کیا منفی اثرات ہوں گے اور کیا مثبت اثرات ہوں گے؟ اور جبکہ حضورِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ بغیر دیکھے (یعنی جس چیز کا سودا ہورہا ہو اس کا موجود ہونا لازمی ہے) سودا نہ کرو ، اور اکثر لوگ اس کاروبار کو ناجائز سمجھتے ہوئے بھی T.V کا اور مختلف مفتی حضرات کا حوالہ دے کر ، یہ کاروبار کررہے ہیں اور لوگوں کو بھی ورغلارہے ہیں کہ یہ جائز ہے۔
میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں، تا کہ میں اور مجھ جیسے کئی گنہگار ، اس کام کو کرتے ہوئے ندامت محسوس کریں اور اس کام کو کرتے ہوئے ناجائز یا جائز سمجھیں۔ شکریہ
شیئرز کی خرید و فروخت ، خواہ اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ہو یا کسی دوسری کمپنی اور بینک کے ذریعہ ، اگر درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے تو اس صورت میں یہ بلاشبہ جائز ، اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے ، وہ شرائط یہ ہیں :
(۱) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں اس کا اصل کاروبار حلال ہو۔
(۲) اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثے (Fixd Assets) بھی وجود میں آچکے ہوں ، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں ، ورنہ فیس ویلیو (Face Value) کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید و فروخت جائز ہوگی۔
(۳) ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو ، بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو۔
(۴) نفع و نقصان دونوں میں شراکت ہو۔
(۵) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے ، تو اس کی سالانہ میٹنگ (A.G.M) میں سود کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
(۶) جب منافع تقسیم ہوں ، تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو ، اس کو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔
یہ تب ہےکہ جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا ، اور گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ہو۔
اس کے بعد واضح ہو کہ جو لوگ شیئرز کو مذکورہ غرض سے نہیں خریدتے ، بلکہ ان کامقصد کیپٹل گین ہوتا ہے ، یعنی وہ لوگ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ کا امکان ہے ، چنانچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہے ،تو انکو فروخت کرکے نفع حاصل کرلیتے ہیں ، مذکورہ شرائط کے ساتھ اس معاملے کی بھی شرعاً گنجائش ہے۔
لیکن اس کو درست کہنے میں دشواری ’’سٹہ بازی‘‘ کے وقت پیش آ تی ہے ، جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے ، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا ، بلکہ آخر میں جاکر آپس کا فرق (ڈیفرنس) برابر کرلیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیشِ نظر ہوتا ہے ، لہٰذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو ، اور نہ ہی لینا دینا مقصود ہو ، بلکہ اصل مقصد سٹہ بازی کرکے ڈیفرنس کو برابر کرلینا ہو ، تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔
اسی طرح بعض اوقات شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت کردیا جاتا ہے ، اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ہے ، کیونکہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع و نقصان کا حقدار بن جائے ، جس کو "رِسک " میں آ نے سے تعبیر کیا جاتا ہے ، تو یہ قبضہ سمجھاجاۓ گا اور آ گے فروخت کرنا جائز ہوگا ، ورنہ جائز نہیں ہوگا ۔
قال رسول اﷲ ﷺ لا تبیعن شیئًا حتی تقبضہ۔(فتح القدیر: ج۶، ص۱۳۶)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0