کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام وراثت کے اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بیوہ خاتون نے اپنا مکان بیچ کرحاصل شدہ رقم اپنی والدہ کے ساتھ مکان خریدنے میں ملا دی اور اپنی والدہ کے ساتھ اسی گھر میں رہنے لگی ، پھر کافی عرصے بعد والدہ کا انتقال ہوگیا ۔
1.والدہ کی میراث تقسیم کرتے وقت بیٹی کو وہ رقم دی جائے گی جو اس نے مکان خریدنے میں لگائی تھی ؟ 2.ماموں کا یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ وہ رقم بہن کے بچوں کی پرورش میں لگ گئی ؟
جزاک اللہ خیرا ً
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ بیوہ خاتون نے اپنا ذاتی مکان فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم اپنی والدہ کے ساتھ ملا کر دونوں نے جو مکان خریدا تھا ،تو دونو ں ماں بیٹی اس مکان میں اپنی اپنی رقم کے بقدر شریک ہوں گی، اور وراثت کی تقسیم سے قبل مذکور مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے بیٹی کا شراکتی حصہ منہا کرکے بقیہ رقم مرحومہ کےتمام ورثاء میں ان کے حصصِ شرعیہ کے مطابق تقسیم کی جائے گی ۔
جبکہ مشترک رہائش ہونے کی وجہ سے مذکورہ بہن کی اولاد پر مرحومہ یا دیگر ورثاء (جیسے بچوں کے ماموں وغیرہ) کی جانب سے جو کچھ خرچ کیا گیا ہے، خرچ کرتے وقت اگر اس رقم کے قرض ہونے کی صراحت نہیں کی گئی تھی تو اب اس رقم کو بہن کے حصہ سے منہا کرنا جاجائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی العقود الدریّۃ: وفی العمادیۃ من أحکام السفل و العلو المتبرع لا یرجع بما تبرع علی غیرہ کما لو قضی دین غیرہ بغیر أمرہ الخ۔ ( کتاب المداینۃ، ج: 2، ص: 248، ط: مکتبہ حقانیۃ،)۔
وفی درر الاحکام:شركة الملك هي كون الشيء مشتركا بين أكثر من واحد، أي مخصوصا بهم بسبب من أسباب التملك المبينة في المادة كالاشتراء والاتهاب أي قبول الهبة تقسیم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما الخ ( کتاب العاشر فی أنواع الشرکاۃ، ج: 3، ص: 26، ط: دار عالم الکتب)۔
وفی الشامیۃ: أما إذا غلت قيمتها أو انتقضت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير. کتاب البیوع، ج: 4، ص: 544، ناشر: سعید )-
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0