محترم جناب! السلام علیکم، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، میرا ایک سوال ہے:
اگر کوئی شخص ایف بی آر (FBR) کو کسی ٹیکس چوری کی اطلاع دے کر انعام حاصل کرے، تو کیا اُس کی یہ آمدنی حلال ہوگی؟ یعنی وہ شخص ایف بی آر کا ”وسل بلوؤ ر“(مخبر) ہو، اور ٹیکس چور کی اطلاع دینے پر اُسے انعام دیا جائے،براہِ مہربانی اس کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیں۔
واضح ہوکہ ملک کے امن وسلامتی کی خاطرحاکمِ وقت کی جانب سے مخبر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنے میں اگرکسی حکم شرعی کی خلاف ورزی یا دیگر کسی بھی گناہ کے امر کا مرتکب نہ ہونا پڑتاہو، بلکہ شرعی اورقانونی تقاضوں کالحاظ رکھتےہوئےمحض مخبری کا کام سرانجام دینا ہوتو فی نفسہ اس ملازمت کو اختیار کرنے اور اس پر اجرت لینے میں مضائقہ نہیں، اور اگر سائل کو اپنی اس ملازمت میں یکسوئی اورپرخلوص کردارکی بناء پر کبھی کبھار حکومت کی طرف سے اعزاز کے طورپر انعام سے بھی نوازاجاتا ہوتو وہ حکومت کی طرف سے تبرّع شمار ہو گا ، اوراس انعام کوقبول کرنا سائل کیلئےجائز اورآمدنی حلال ہوگی ۔
کماقال الله تعالى فی القرآن الكريم: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى الۡإِثۡمِ وَالۡعُدۡوَٰنِ وَاتَّقُواْ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الۡعِقَابِ، (سورۃ المائدة، الآیۃ: 2)-
وفی التفسیر المظھری: تحت قولہ تعالی وتعاونوا على البر اى على امتثال امر الله تعالى والتقوى اى الانتهاء عما نھى عنه كى يتقى نفسه عن عذاب الله ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم لتشفى صدوركم بالانتقام، عن النواس بن سمعان الأنصاری قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم قال البر حسن الخلق والإثم ما حاك فى نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس رواه مسلم فى صحيحه والبخاری فى الأدب والترمذی وعن ابى ثعلب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم البر ما سكنت اليه النفس واطمأن اليه القلب وان أفتاك المفتون رواه احمد، (ج 3، ص 19، ط: مکتبۃ الرشیدیۃ)-
وقال تعالیٰ: يَٰٓأَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوٓاْ أَطِيعُواْ اللَّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الۡأَمۡرِ مِنكُمۡ،الخ (سورۃ النساء،الآیۃ:59)-
وفی التفسیر المظھری: تحت ھذہ الآیۃ (مسئلة) وهذا الحكم يعنى وجوب إطاعة الأمير مختص بما لم يخالف امره الشرع، يدل عليه سياق الآية فان الله تعالى امر الناس بطاعة اولى الأمر بعد ما أمرهم بالعدل فى الحكم تنبيها على ان طاعتهم واجبة ما داموا على العدل، ونص على ذلك فيما بعد فإن تنازعتم في شيء فردوه الاية، قال بعض الأفاضل: صيغة اولى الأمر يفيد ان متابعتهم واجبة فيما ولوه من الأمر، وجعلهم الله تعالى واليا فيه وانما هو العدل فى الحكم،الخ (ج2، ق2، ص152، ط: مکتبۃ الرشدیۃ)-
وفی البدائع: وكذلك ما يفعله السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين: من سبق منكما فله كذا فهو جائز لما بينا أن ذلك من باب التحريض، الخ (کتاب السباق، ج 6، س 206، ط: ایچ ایم سعید)-