السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، بوقتِ انتقال ورثاء میں بیوہ،دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں موجود ہیں ،اور کل ترکہ25 لاکھ روپیہ ہے،
لہذا براہِ مہربانی شرعی وراثت کی تقسیم سے مسئلے کی وضاحت فرمائیں،بندہ ممنون رہےگا۔
سائل کے والدِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال مذکور رقم سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، نقدی ، زیورات، مالِ تجارت اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ،جس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو ،یا بیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہوتووہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل بہتر(72) حصے بنا ئےجا ئیں ، جس میں سےمرحوم کی بیوہ کو نو (9)حصے، ہر بیٹے کوچودہ(14) حصے، جبکہ ہر بیٹی کو سات (7) حصے دیے جائیں -