السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ:
بخدمت جناب مفتی صاحب !سلام کے بعد انتہائی ادب واحترام سے عرض ِ گذارش ہیکہ ہم کل گیارہ بہن بھائی ہیں ،تین بھائی اور آٹھ بہنیں ، دو بھائی اور ہم آٹھ بہنیں ایک ماں سے ہیں اور ہمارا ایک سوتیلا بھائی ہے، اور سوتیلا بھائی پہلی ماں سے ہے،اس کی والدہ کے انتقال کے بعد میرے والد صاحب نے دوسری شادی کر دی تھی، اب والد کا بھی انتقال ہو چکا ہے، اب ہمارے پاس جو گھر ہے ،اس کی قیمت چھ لاکھ ہے، اب یہ چھ لاکھ ہم آٹھ بہنوں اور تین بھائیوں اور میری والدہ کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے گا ؟رہنمائی فرمائیں!
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقت ِانتقال مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، نقدی ، زیورات، مال تجارت اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ،جس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو ،یا مرحوم نے بیوہ کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہوتووہ ادا ءکریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل سولہ(16) حصے بنا ئےجا ئیں ، جس میں سےمرحوم کی بیوہ اور ہر بیٹے کو (2) حصے، جبکہ ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -