کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارےوالد صاحب مرحوم محمد جمیل قریشی کا انتقال ہو گیا ہے،والدہ کا پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا،والد صاحب کے انتقال کے وقت ورثاء میں دو بیٹے (محمد فرید قریشی ،نوید احمد قریشی ) اور چار بیٹیاں (فریدہ،فہمیدہ،فوزیہ ،فائزہ)موجود ہیں،دادا دادی پہلے فوت ہو گئے تھے۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ والدِ مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے مذکور ورثاء میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، نقدی ، زیورات، مال تجارت اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، یہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ،جس میں سے سب سے پہلےمرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ہو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پرعمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل آٹھ(8) حصے بنا ئےجا ئیں ، جس میں سےمرحوم کے ہر بیٹے کو دو(2) حصے،جبکہ ہر بیٹی کو ایک (1)حصہ دیا جائے -
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0