کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تین بھائی اور دو بہنیں وارث بنے ہیں والدین کی جائیداد کے ،ہم بھائیوں میں ایک بھائی ذھنی طور پر ٹھیک نہیں ہے ،یعنی ذھنی معذور ہے تو کیا ہم دو بھائی اور دو بہنیں آپس میں جائیداد تقسیم کرسکتے ہیں یا اس کا حصہ الگ کرنا ضروری ہے ؟شریعت کے مطابق کیا فیصلہ ہوگا ؟ تحریر کرکے شکریہ کا موقع دیں ۔ جزاک اللہ خیرا
واضح ہوکہ محض ذہنی معذوری کی وجہ سے کوئی وارث اپنے حصۂ میراث سےمحروم نہیں ہوتا، بلکہ ذہنی معذوری کے باوجود بھی وہ اپنے شرعی حصہ کاحقدار ہوتاہے ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا ذہنی معذور بھائی بھی اپنے والدین کے ترکہ میں دیگر ورثاء کی طرح حسب حصص شرعی برابر کا شریک ہے ،اس کو اپنے حصہ سے محروم کرنا شرعاً درست نہیں ،جس سے اجتناب لازم ہے ،البتہ اس کو ملنے والا حصہ اس بھائی کے حولہ کیا جائے گا جو امانت دار ہو اور اس کی رقم صرف اس کی ضروریات میں ہی خرچ کرے ۔
في السراجي : المانع من الإرث أربعة الرق والقتل واختلاف الدين واختلاف الدارين الخ (ص ۲ط: بشری)
وفی الدر المختار للحصفكي شرح تنوير الأبصار للتمرتاشي :(ووليه أبوه ثم وصيه) بعد موته ثم وصي وصيه كما في القهستاني عن العمادية (ثم) بعدهم (جده) الصحيح وإن علا (ثم وصيه) ثم وصي وصيه قهستاني زاد القهستاني والزيلعي ثم الوالي بالطريق الأولى (ثم القاضي أو وصيه) أيهما تصرف يصح فلذا لم يصح ثم (دون الأم أو وصيها) هذا في المال ۔(6/174)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2