السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والد حفیظ الرحمن صاحب کا انتقال2009 میں ہوا، انتقال کے وقت مرحوم کے ورثاء میں چار بیٹے (محفوظ الرحمن، مجیب الرحمن،مسعود الرحمن، محمود الرحمن) اور دو بیٹیاں( شفیقہ اور سعدیہ )حیات تھیں ، جبکہ ایک بیٹی سعیدہ بیگم اور اہلیہ رئیسہ بیگم کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہو گیا تھا، اس کے بعد مرحوم کے بیٹے مسعود الرحمن کا انتقال2022 میں ہوا، مرحوم غیر شادی شدہ تھے اور ان کے ورثا میں مذکورہ تین بھائی اور دو بہنیں ہیں،تو ان کا ترکہ کن کے درمیان تقسیم ہوگا؟ نیزمرحوم حفیظ الرحمن صاحب کی وراثت کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اسی طرح مرحوم والد صاحب کی ایک بیٹی (سعیدہ بیگم) جن کا انتقال مرحوم کی حیات میں ہو گیا تھا، کیا ان کی بیٹی (فائزہ) مرحوم کی وراثت میں حصہ دار ہوگی؟
واضح ہو کہ جس بیٹی کا انتقال والد کی زندگی میں ہو جائے ،تو دیگر قریبی ورثاء کی موجودگی میں شرعاً مرحومہ بیٹی کی اولادنانا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہیں ہوتی ، لہذاسائل کے والد مرحوم کی جس بیٹی (سعیدہ بیگم) کا انتقال والدمرحوم کی زندگی میں ہوچکاہے اس کی اولاد شرعاً مرحوم کے ترکے میں حصہ دارنہیں ، اور نہ ہی انہیں دیگر ورثاء سے حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ دیگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے ترکے میں سے یا کوئی وارث اپنے حصے سےانہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ،مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں،جبکہ جو بیٹا والدِمرحوم کی وفات کے بعد انتقال کرچکا ہے وہ شرعاً مرحوم کے ترکے میں حصہ دار تھا،لیکن چونکہ اب ان کا انتقال ہوچکا ہے،اس لئے اسے مرحوم والد کےترکے میں سےملنے والا حصہ اب اس کے ورثاء(بہن بھائیوں)کے درمیان حسبِ حصص ِشرعیہ تقسیم ہوگا،جس کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے۔
سائل کے والد مرحوم (حفیظ الرحمن ) کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ،چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کےایک تہائی (3/ 1) کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد کل مال کے چالیس(40) حصے کیے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دس(10) حصے، جبکہ ہر بیٹی کو پانچ(5) حصے دیے جائیں -