السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے کا انتقال ہوچکا ہے، جو شادی شدہ تھا، اس کے ورثاء میں بیوہ اور بچے ہیں، وہ میرے ساتھ رہائش پذیر تھا، اس کی اپنی کوئی جائیداد وغیرہ نہیں ہے، اب یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ میری ذاتی جائیداد میں میری بیوہ بہو اور یتیم پوتے کا کوئی حصہ ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ میراث، مورث کی موت کے بعد جاری ہوتی ہے اور ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام ذاتی مال و جائیداد کا تنہا مالک وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل جب تک بقید حیات ہو تب تک سائل کی ذاتی ملکیت میں جو کچھ موجود ہے، اس میں سائل کی بیوہ بہو، یتیم پوتوں، پوتیوں یا کسی اور کا شرعاً کوئی حق نہیں، البتہ سائل کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں جو کچھ موجود ہوگا وہ سائل کا ترکہ اور میراث شمار ہوگا جو اس کے اس وقت موجود ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا۔
وفی الدر:وهو الميراث وسمي فرائض لأن الله تعالى قسمه بنفسه وأوضحه (الی قولہ) وقيل لتعلقه بالموت الخ (کتاب الفرائض، ج6، ص758، سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2