السلام علیکم
! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میں نعیم احمد ولد افتخار احمد( مرحوم) اپنے والد کی جائیداد کی تقسیم کرنا چاہتا ہوں اپنے بہن بھائیوں کی رضامندی سے ،میرے والد صاحب کا انتقال 1991 نومبر میں ہوا تھا ،اس وقت اور آج ہم چار بھائی اور سات بہنیں ہیں اور ہمارے ساتھ والدہ بھی ہیں، والد کے انتقال کے تقریباً 10 سال بعد مکان اور دکان جو کسی کے بھی نامزد یعنی ماں باپ اور بچوں کے نام نہیں تھی، میں نے ا سے اپنی والدہ کے نام لیز کروایا ،پھر دکان بیچ کر 20 سال بعد 50 گز کے مکان کو مسمار کر کے دوبارہ 2020 میں تعمیر کروایا ،اس کی تعمیر میں ،میں نعیم احمد اور بھائی کامران احمد نے 20 ،20 لاکھ ( 40 لاکھ )خرچ کیے اور دکان کی رقم 7 لاکھ ملا کر ٹوٹل 47 لاکھ سے نئے گھر کی تعمیر کی اس کے علاوہ کسی بھی بہن بھائیوں نے تعمیر میں اپنا مالی حصہ نہیں ملایا، آج اللہ نے اپنے فضل سے مجھے توفیق دی کہ ایک بھائی کے علاوہ میں نے مجھ سمیت 10 بہن بھائیوں کی شادی کا فرض بھی ادا کیا اور ہم چار بھائی اس مکان میں رہائش پذیر ہیں، لہذا اب میں چاہتا ہوں کہ اس مکان میں اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کا حصہ شرعی طور پر تقسیم کر کے اپنے اس فرض سے سبک دوش ہو جاؤں ،براہ مہربانی اس تقسیم کو کس طرح ادا کر کرنا ہے تفصیل سے وضاحت فرمائیں ۔
نوٹ:ورثاء میں بیوہ ،چاربھائی اور سات بہنیں ہیں،موجودہ پلاٹ کی مالیت50 لاکھ روپےہے۔
نوٹ:استفسار کے بعد معلوم ہوا کہ سائل اور اسکے بھائی نے مکان بنانے میں جو پیسہ خرچ کیا وہ تبروع واحسان کے طورپر کیا نہ کہ قر ض کے طورپر۔
سائل کے والد مرحوم کا تر کہ اصولِ میراث مطابق ان کے موجودہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیدادسونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض یا بیوہ کا مہر واجب الادا ہو تو اسے ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر یں اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل ایک سوبیس (120) حصےبنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کوپندرہ (15)حصے ، مرحوم کےہر بیٹے کو چودہ (14)حصے اور مرحوم کی ہربیٹی کو سات (7)حصے دیے جائیں -