السلام علیکم !مجھے فتویٰ چاہیے ، میرا سوال ہے کہ میرے والد صاحب کے انتقال کو تین سال ہوگئے ہیں، اور میں ان کی اکلوتی بیٹی ہوں، نہ میرا کوئی بھائی ہے نہ بہن ہے، چچا نے میرے والد کی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے نہ ہمیں پیپرز دکھا تے ہیں، میری رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کے چچانے اپنے مرحوم بھا ئی کی جائیداد پر ناحق قبضہ کر لیا ہو، تو سائلہ کے چچا کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ اسکی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہا ہے ، لہذا اس پر لازم ہے کہ مرحوم بھائی کی جائیداد میں سے سائلہ کو اس کا حصہ حوالہ کرکے مواخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے ، بصورت دیگر سائلہ اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کی بھی مجاز ہے ۔
کما فی الصحیح للبخاری: عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل : أنه «خاصمته أروى في حق زعمت أنه انتقصه لها إلى مروان فقال سعيد: أنا أنتقص من حقها شيئا أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»(رقم حدیث، 3198، ج4، ص 108)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» (رقم الحدیث، 3078، ج1، 926، ط: الامکتبۃ الاسلامی، بیروت)۔
و فی شرح المجلة :كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبى في حصة الآخر ليس واحد فلا يجوز تصرف أحدها في حصة الآخر بدون إذنه لكن كل واحد من أصحاب الدار المشتركة يعتبر صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال في السكنى و في الأحوال التابعة لها الخ ( ج ع ص ١٥ )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2