کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اور مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے میں کہ میری والدہ مرحومہ جوزہ عبدالحمید جو انتقال کر گئی اور میرے والد بھی انتقال کر گئے، میرے نانا کی وراثت سے جو حصہ ملا اس میں میری تین بہنیں اور ایک بھائی، (پہلی بہن سلمہ شیخ ،دوسری حمیرہ میمن، تیسرا میں محمد بلال، اور چوتھی بہن عائشہ سوراٹیہ) ہم چاروں موجود ہیں، مرحومہ کی متروکہ جائیداد وارثین میں کیسی تقسیم ہوگی ؟قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجو ر ہوں ۔
واضح ہو کہ سائل کی والدہ مرحومہ کا تر کہ اصولِ میراث مطابق اس کے موجود ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگاکہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیدادسونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو اسے ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل پانچ(5) حصےبنائے جائیں ،جن میں سے مرحومہ کے بیٹے کو (2)حصے اور مرحومہ کی ہربیٹی کو ایک (1)حصہ دیا جائے -