مجھے یہ پوچھنا تھا کہ میری امی کا انتقال ہو چکا ہے، اُنکے والدین کی جائیداد ہے تو اس پر میرا اور میرے بھائی کا حق ہے یا نہیں ہے؟ میرے ننیال والے کہتے ہیں کے آپکی ماں اس دنیا سے چلی گئی، اسکا کوئی حصہ نہیں ہے، میری امی کا انتقال میرے نانااور نانی کے انتقال کے بعد ہوا تھا۔
واضح ہو کہ اگر کوئی بیٹا یا بیٹی والدین کی وفات کےوقت حیات ہو اور بعد میں انتقال کرجائے تو ایسی صورت میں شرعاً مرحوم بیٹے، بیٹی کی اولاد اپنے والد اور والدہ کے توسط سے دادا ، دادی اور نانا ، نانی کے ترکہ میں حصہ دار ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کی والدہ اپنے مرحوم والدین کی وفات کے وقت حیات تھی تو ایسی صورت میں سائلہ کے بہن بھائی اپنی والدہ کے شرعی حصہ کے حقدار ہوں گے،لہذا سائلہ کے ماموں کا اپنے بھانجے بھانجیوں کو ان کا شرعی حصہ نہ دینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہ کیبرہ اور غضب ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ،بصورت دیگر سائلہ کے بہن بھائی اپنے حق کے وصولیابی کی خاطرقانونی چارہ جوئی کے بھی مجاز ہوں گے۔
کمافی رد المحتار تحت( قولہ:ھی علم باصول الخ)و شروطہ : ثلاثۃ : موت مورث حقیقۃ ، او حکما کمفقود او تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ او تقدیرا کالحمل الخ (کتاب الفرائض ج 6 صــــ 75 ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2