کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ الفت بی بی کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، بوقت انتقال میرے شوہر کے ورثاء میں بیوہ( میں) اور میرے شوہر کے چار بھائی موجود تھے، ہماری اپنی کوئی اولاد نہیں ہے ، اس کے بعد اس کے ایک بھائی انوار الزمان کا انتقال ہوا ، ان کے ورثاء میں بیوہ ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں، معلوم کرنا ہے کہ میرے شوہر مرحوم کا ترکہ مذکور ورثا میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا؟
سائلہ کےمرحوم شوہرکا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول ِمیراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا اس نے بیوہ کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل (1024) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ مسماۃ الفت بی بی کو (256) حصے ، ہر ایک بھائی کو(192)حصے، بھا بھی (انوار زمان کی بیوہ) کو (24) حصے، ہر ایک بھتیجے (انوار زمان کے بیٹوں) کو (42) حصے ، اور ہر ایک بھتیجی (انوار زمان کی بیٹیوں) کو (21) حصے دیے جائیں -