السلام علیکم
میرا سوال رخصتی کی تقریب کے دوران دلہن کے سر پر قرآن رکھنے کے شرعی حکم کے بارے میں ہے . کیا یہ ایک اچھا عمل ہے ؟ یا قرآن کی عزت و تکریم کو بر قرار رکھنے کے لئے اس سے گریز کرنا چاہیئے ؟یہ دیکھتے ہوئے کہ رخصتی کے دوران قرآن کو ایک بڑی بھیڑ کے درمیان مسلسل دلہن کے سر کے اوپر رکھا جاتا ہے، اس بات کا خدشہ ہے کہ قرآن کے احترام پر سمجھوتہ ہوجائے ۔
رخصتی کے وقت دلہن پر قرآن مجید کا سایہ کرنا یہ محض ایک رسم ہے ، اور اس موقع پر قرآن کریم کی بے ادبی کا بھی اندیشہ رہتا ہے ،جبکہ اس کو سنت اور باعثِ ثواب سمجھ کر کرنا بدعت کے زمرے میں آتا ہے ، اس لئے اس سے اجتناب چاہیئے ۔
کما فی المشکاۃ: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ ﷺ من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد متفق علیہ الخ ۔
و فی المرقاۃ فی شرح المشکاۃ تحت قولہ: (قال وسول اللہ ﷺ: من احدث) ای جدّد و ابتدع او اظھر و اخترع ( فی امرنا ھذا ) ای فی دین الاسلام و فی ایراد اسم الاشارۃ الی تمیز الدین اکمل تمیز الخ (الی قولہ) و فی روایۃ مسلم (من عمل عملًا ) ای من أتی بشیئ من الطاعات او بشیئ من الاعمال الدنیویۃ و الاخرویۃ سواء کان محدثاً او سابقًا علی الامر لیس علی امرنا ای: وکان من صفتہ انہ لیس علیہ اذننا بل اتی علی حسب ھواہ فھو ردّ ای مردود غیر مقبول الخ (باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ، ج: 1، ص: 366، ط: المکتبہ الحقانیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: و یکرہ للرجل ان یجعل الرایۃ فی عنق فی عبدہ و لا باس بأن یقیدہ اما الرایہ و ھی الغل ولانہ شیئ احدثتہ الجابرۃ و قد قال رسول اللہ ﷺ کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ و کل ضلالۃ فی النار الخ (کتاب الاستحسان، ج: 5، ص: 127، ط: ایچ ایم سعید )۔