کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بار ے میں کہ میرا نام خالد ہے، میں علاقہ گزد ر آباد مارواڑی لائن کراچی کا شہری ہوں، میرا تعلق مسلم مارواڑی سلاوٹہ جماعت کراچی سے ہے، میری بیوی کا نام عائشہ ہے ، میری بیوی کا تعلق بھی ہماری برادری سے ہی ہےاور وہ بھی علاقہ گزدر آباد کی ہی رہائشی ہے، ہماری برادری مسلم مارواڑی سلاوٹہ جماعت (رجسٹرڈ) کراچی میں یہ روایت ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کو عاریۃً سونا پہنایا جاتا ہے اور وہ سونا ملکیت کے اعتبار سے لڑکے والوں کا ہی رہتا ہے، لڑکی کو اس سونے کا مالک نہیں بنایا جاتا ، اسی طرح لڑکی والوں کی طرف سے بھی لڑکے کو سونا دیا جاتا ہے وہ لڑکی والوں کی ہی ملکیت میں رہتا ہے ، لڑکے کو اس کا مالک نہیں بنایا جاتا ، اب مسئلہ یہ ہے کہ : میر ی بیوی عائشہ اپنا سونا تو مجھ سے واپس لے چکی ہے ، مگر میری والدہ کا سونا واپس کرنے سے انکاری ہے ، میر ی بیوی کا کہنا ہے کہ یہ تو میر ا حق ہے ، میرا ہدیہ ہے ، جبکہ ہم نے ہدیہ نہیں کیا ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میر ی بیوی کا سونے کے زیورات واپس نہ کرنا شرعاً درست ہے ؟ کیا سونے کے زیورات پر میری بیو ی کا کچھ اختیار ہے ؟ جبکہ ہم واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں ، نیز اس سونے کا اصل حق دار کون ہے ؟
نوٹ : یہ سونا حق مہر میں نہیں دیا گیا ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق سائل کے خاندان میں لڑکی کو سسرال والوں کی طرف سے حق مہر کے علاوہ جو سونا دیا جاتا ہے ، اگر واقعۃً وہ سونا فقط عاریت یعنی استعمال کیلئے دیا جاتا ہو اور سائل کی بیوی کو بھی اسی خاندانی رواج کے مطابق بطور استعمال مذکور سونا دیا گیا ہو ، مالکانہ طور پر نہیں دیا گیا ہو تو سائل کی بیوی مذکور سونے کی مالک نہیں بنی ، لہذا سائل کی بیوی کا مطالبہ کے باوجود مذکور سونا واپس نہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ اس پر لازم ہے کہ مذکور سونا سسرال کے مطالبہ پر انہیں لوٹا دے ، بلاوجہ مذکور سونے پر ناجائز قبضہ رکھنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی الشامیۃ : و من ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد و المواسم من نحو ثياب وحلي ، و كذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس و يسمى في العرف صبحة ، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر اھ( 3/ 153)۔
و فی الھندیۃ : و إذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك اذا بعث الیھا علی وجہ التملیک کذا فی الفصول العمادیۃ ، جہز بنتہ و زوجہا ثم زعم ان الذی دفعہ الیھا ماله و كان على وجه العارية عندها و قالت : هوملکی جہزتنی به أو قال الزوج ذلك بعد موتها فالقول قولهما دون الأب ( الیٰ قولہ) و قال في الواقعات إن كان العرف ظاهرا بمثله في الجهاز كما في ديارنا فالقول قول الزوج و إن كان مشتركا فالقول قول الأب ، كذا في التبيين ، قال الصدر الشهيد رحمه الله تعالى و هذا التفصيل هو المختار للفتوى ، كذا في النهر الفائق و إذا كان القول للزوج و أقام الأب بينة قبلت بينته اھ ( 1/ 327) ۔