شادی کی پہلی رات دولہا کے گھر والوں کی طرف سے دلہن کو ایک کپڑا دیا جاتا ہے تاکہ دلہن خون اس سے صاف کرلے اور یہ ثابت ہوسکے کہ یہ عورت زانیہ تو نہیں تھی گزارش ہے کہ اس کی دینی حیثیت واضح فرمائیں۔
مذکور طریقہ کار شریعت مطہرہ میں کوئی تصور نہیں اس کو رواج دینا جہالت پر مبنی حرکت ہے اس لیے کہ بکارت بعض دفعہ بچپن میں کھیل کود یا زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے بھی زائل ہوجاتی ہے۔
فی الدر المختار: (من زالت بکارتہا بوثبۃ) أی نطۃ (أو) درور (حیض أو) حصول (جراحۃ أو تعنیس) أی کبر الخ (ج:۳ ص: ۶۳)۔ واللہ اعلم