عورت اس کے باپ سے پہلے فوت ہوجائے تو اس کے بچوں کا وراثت میں حق ہے یا نہیں؟ جب کہ پاکستان کے قانون نے حق دیا ہو۔
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے تو قریبی ورثاء کی موجودگی میں اس کی اولاد کا اپنے دادا،دادی،یا نانا،نانی کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسؤلہ میں جس عورت کا انتقال والدین کی زندگی میں ہی ہوچکا تھا، اس کی اولاد اپنے مرحوم نانا کی میراث کی شرعاً حصہ دار نہیں ہوگی ، البتہ دیگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے اپنے شرعی حصوں میں سےانہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے اوریہ باعثِ اجر و ثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
کما فی رد المحتار: وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا اھ (کتاب الفرائض،ج6، ص 758،ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2