السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کے پانچ بیٹے ہیں،والد نے ایک بیٹے کی بیماری پر دس لاکھ روپے خرچ کیے ہیں،اور والد نے خرچ کرتے وقت قرض یا واپسی کی صراحت نہیں کی،اب جب والد کا انتقال ہوچکا ہے، تو باقی چار بیٹے اپنے بھائی سے اس رقم کا مطالبہ کررہے ہیں جو والد نے اس کی بیماری پر خرچ کی تھی ، کیا ان بیٹوں کا مطالبہ کرنا درست ہے؟براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔شکریہ
نوٹ: سائل نے یہ بھی بتایا کہ والد نے اس بیٹے کو کہا تھا کہ میں ان پیسوں کا آپ سے مطالبہ نہیں کرتا، جس طرح ان دیگر بیٹوں پر میں خرچ کرتا ہوں اسی طرح آپ پر بھی خرچ کرنے کا میراحق ہے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،تو مذکور بیٹے کے والد مرحوم نے قرض وغیرہ کی صراحت کے بغیر اس کے علاج ومعالجہ پر جورقم خرچ کی ہے،یہ والدِ مرحوم کی طرف سے بیٹے کے ساتھ تبرع واحسان تھا، لہذااب والد کے انتقال کے بعد مذکور بیٹے کےدیگر بھائیوں کا اپنے بھائی سے مذکور رقم کی واپسی کامطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔
کمافی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره. اهـ.(ج2 ص226 کتاب المداینات ط: دارالمعرفۃ)۔
وفیھا أیضاً: (سئل) فيما إذا قضى زيد دين عمرو لدائنه بدون إذن عمرو ويريد الرجوع على عمرو بما قضاه عنه بدون إذنه فهل ليس له ذلك؟
(الجواب) : من قضى دين غيره بغير أمره لا يكون له حق الرجوع عليه عمادية من الفصل 28 ومنها في أحكام السفل والعلو: المتبرع لا يرجع على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره اهـ.(ج21 ص287/288 کتاب الکفالۃ ط: دارالمعرفۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2