کیا فر ماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک شخص نظر محمد نے دو شادیاں کی ہوئی ہیں ،پہلی بیوی سے ایک بیٹا مسمیٰ محمد خان ،جبکہ دوسری بیوی جو کہ ایک بیوہ تھی اور اس دوسری بیوی کی سابقہ شوہر سے ایک اولاد مسمیٰ عبدالرحیم تھی،پھر نظر محمد سے اس کے دو بیٹے ہوئے مسمیٰ ولی محمد اور مسمیٰ خان محمد ،اور اب عبدالرحیم کا انتقال ہو گیا ہے ،اس کے ورثاء میں والدہ اور ولی محمد خان محمد کے علاوہ کوئی نہیں ہیں ،اب نظر محمد کا بیٹا جو پہلی بیوی سے ہے اس نے عبدالرحیم کی جائیداد میں اپنے حصہ کا دعویٰ کیا ہے ،کیا اسلامی نقطہ نظر محمد خان کا عبدالرحیم کی جائیداد میں کوئی حق بنتا ہے یا نہیں ؟
سوال میں درج کرد تفصیل کے مطابق مسمٰی نظر محمد کی پہلی بیوی سے پیدا ہونے والے بیٹے مسمٰی محمد خان اور دوسری بیوی کے سابقہ شوہر سے پیدا ہونے والے بیٹے مسمٰی عبدالرحیم مرحوم کے درمیان ذوی الفروض اور عصبیت وغیرہ کا کوئی رشتہ اور قرابت نہیں،بلکہ دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہیں، چنانچہ مسمیٰ محمد خان کا مسمٰی عبدالرحیم مرحوم کے ترکہ اور میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں، لہذا مسمی ٰمحمد خان کو مرحوم عبدالرحیم کے ترکہ اور جائیداد میں ناحق دعوی ٰکرنے سے اجتناب لازم ہے۔
کمافی الدرالمختار: والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله (فيبدأ بذوي الفروض) أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان (ثم بالعصبات) أل للجنس فيستوي فيه الواحد والجمع وجمعه للازدواج (النسبية) لأنها أقوى(ثم عصبته الذكور) لأنه ليس للنساء من الولاء إلا ما أعتقن (ثم الرد) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم (ثم ذوي الأرحام ثم بعدهم مولى الموالاة)(کتاب الفرائض ج6/ص764 )۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2