جناب عالی گزارش یہ ہے کہ میں مسماۃ فرزانہ فرید خان ولد محمد فرید خان اپنے والد کی جائیداد کے حوالے سے شریعت کے مطابق فتویٰ لینا چاہتی ہوں، میرے والد نے اپنی وفات کےوقت ایک مکان L.578 سیکٹر SC.4 نارتھ کراچی اور ایک پلاٹ 120 گز جو کہ سیکٹر 10 سرجانی ٹاؤن نارتھ کراچی میں واقع ہے، وراثت میں چھوڑا ہے، ہم کل تین بہنیں اور تین بھائی ہیں، جو کہ وراثت میں حصے کے طلبگار ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کے مطابق ہم 6 بہن بھائیوں کے حصے کے حوالے سے فتوٰی عنایت فرمائیں۔
نوٹ: سائلہ کی والدہ اور دادا دادی کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے۔
واضح ہو کہ سائلہ کےوالد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے ، مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر یں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل نو (9) حصے کیے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو(2) حصے،اورہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -