کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک گھر جو میں نے ،بڑے بھائی نے، اور والدہ نے مشترکہ طور پر پیسے ملا کر خریدا تھا ،والد صاحب کی وفات کے بعد، میں اور بڑا بھائی ملازمت کرتے تھے اور تنخواہ وغیرہ والدہ کو لا کر دیتے تھے والدہ اس سےگھر کے اخرجات بھی چلاتی تھی، اور خود گھر میں کپڑے وغیرہ سلائی کرتی تھی اس کے بھی کچھ پیسے شامل تھے، اب ہم گھر بیچنا چاہتے ہیں تو اس کی تقسیم کس حساب سے ہوگی،اور کیا اس میں بہنوں کو حصہ دینا ہوگا یا نہیں؟ جبکہ کسی بہن کی طرف سے کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں ہے ،جبکہ گھر میں بڑا بھائی، والدہ ،میں (سائل) اور دو بہنیں شامل ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل، سائل کے بڑے بھائی اور والدہ نے اپنی ذاتی رقم سے مشترکہ طور پر مذکور مکان خریدا ہو تو جس تناسب سے سائل،سائل کی والدہ اور بڑے بھائی نے مکان کی خریداری میں رقم شامل کی ہے اسی تناسب سے شرعاً یہ مکان ان تینوں کے درمیان مشترک ہے، چنانچہ مکان فروخت ہونے کی صورت میں حاصل شدہ رقم سائل، سائل کی والدہ اور بڑے بھائی کے درمیان ان کی ملکیتی تناسب کے مطابق تقسیم ہوگی، مذکور مکان میں سائل کی بہنوں یا کسی اور کا شرعاً کوئی حصہ نہیں، البتہ اگرسائل، سائل کی والدہ یا بڑا بھائی اپنی مرضی سے بہنوں کو کچھ دینا چاہیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور درست بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے۔
کما فی الھندیۃ: الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما(الی قولہ) وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار (الی قولہ) وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما، كذا في الذخيرة أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة (الی قولہ) وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط الخ(ج2 ص301)۔
وفی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: (المادة ١٠٧٣) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.الخ(ص206)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2