کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ! مند رجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، ورثاء میں ایک بیٹا , میں محمد قدیر اور تین بیٹیاں موجود ہیں، والد کے مکان کے اوپر میں نے اپنی ذاتی رقم سے تعمیرات کی ہیں ،بہنوں کی موجودگی میں، لیکن اس بات میں ہمارے درمیان کوئی قرض یا واپسی یا کسی بھی بات کی صراحت نہیں ہوئی تھی، اب وہ مکان 90 لاکھ کا فروخت ہو گیا ، اس میں کچھ خرچہ کاغذات وغیرہ کا ، اب جو رقم باقی بچ جائے گی اس میں میری تعمیرات کی رقم الگ لوں گا یا نہیں ؟ جو بھی شرعی حکم ہو, تحریر فرمائیں۔ جبکہ بقیہ ترکہ کی تقسیم مذکور ورثاء کے درمیان کیسے ہوگی اس کی بھی رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے والد مرحوم کے مکان پر اپنی ذاتی رقم سے اپنے لئے تعمیرات کی ہوں تو ایسی صورت میں یہ تعمیر شرعاً سائل کی ملکیت تھی،اس میں دیگر ورثاء حصہ دار نہیں تھے، لہذا اب مذکور مکان فروخت ہونے کی صورت میں سائل کی تعمیرات کی جو قیمت ہوگی وہ سائل کی ملکیت شمار ہوگی، چنانچہ سائل کے لئے مکان کی مجموعی قیمت سے تعمیرات کے بقدر رقم منہا کرنا جائز ہوگا، جبکہ بقیہ رقم دیگر ترکہ کی طرح تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کے مرحوم والد کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل پانچ ( 5 ) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے بیٹے کو دو (2) حصے، اور مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو (1) حصہ دیا جائے-
کمافی درر الاحکام: الاحتمال الثالث - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه.الخ ( ج 3 ص 313)۔
و فی شرح المجلۃ: المادۃ(١٣09 ) اذا عمر احد الشریکین الملك المشترك باذن الآخر وصرف من مالہ قدراً معروفاً فلہ الرجوع بحصۃ شریکہ یعنی یاخذ من شریکہ مقدار ما اصاب حصتہ من الصرف اھ (الباب الخامس، ج4 ص 229، ط: اسلامیۃ)۔