عزت مآب مفتی صاحب، السلام علیکم! ہمارا آبائی گھر میرے والد صاحب نے 1970 سے پہلے خریدا تھا، 1982 میں والد صاحب نے گھر کا آدھا حصہ بڑے بھائی ، یعنی اپنے بڑے بیٹے محمد خورشید کے نام کردیا تھا، پلاٹ ایک ہی ہے، لیکن دستاویزات میں دو حصوں میں ہے، عمارت بھی ایک ہی ہے،زندگی کا سلسلہ چلتا رہا خاندان کی محنت اور کمائی سےپرانے گھر کی جگہ نئی عمارت بن گئی، اس گھر میں والد صاحب کے ساتھ تین شادی شدہ بھائی محمد خورشید اکبر، محمد صدیق اکبر اور وقار اکبر رہائش پذیر تھے، اور آج تک ہیں، والد صاحب کا انتقال 2006 میں ہوگیا، والد صاحب کے انتقال کے بعد والدہ بھی بھائیوں کے ساتھ مقیم ہیں، والد صاحب نے وفات سے کچھ عرصہ پہلے اسٹامپ پیپر پر وصیت فرمائی کہ یہ گھر چھوٹے بھائیوں صدیق اکبر اور وقار اکبر کو دیا جائے، حالانکہ کاغذات میں والد صاحب آدھے حصہ کے مالک ہیں،اب ہم اس گھر کی شریعت کے عین مطابق تقسیم چاہتے ہیں،کیا پورا گھر ورثاء میں تقسیم کیا جائے یا صرف والد صاحب کے نام والا؟ اور تقسیم کس تناسب سے ہوگی اس کی بھی وضاحت فرمائیں،اللہ آپ سے راضی ہو، آمین۔ جزاک اللہ خیرا
نوٹ: بڑے بیٹے کے نام پر صرف کاغذات بنوائے ہیں، تقسیم کرکے یا حصہ متعین کرکے نہیں دیا گیا، جبکہ مکان کی تعمیر والد صاحب کی زندگی میں ہی ہوئی اور کسی نے بھی قرض وغیرہ کی کوئی صراحت نہیں کی۔
جبکہ اس کے علاوہ میرے والد صاحب نے 1982 میں میرے نام پر جائیداد خریدی، اس وقت میری عمر 13 سال تھی، اور جائیداد میں ایک مکان اور ایک گھر تعمیر تھا، گھر والد صاحب نے کرایہ پر دیدیا اور کرایہ والد صاحب خود وصول کرتے رہے، نوے کی دہائی میں والد صاحب نے دکان میں جوتوں کا کاروبار شروع کردیا، میرے والد صاحب کے ساتھ مل کر میرے دو چھوٹے بھائی محمد صدیق اکبر اور محمد وقار اکبر یہ کاروبار کرتے رہے، وقت کے ساتھ ساتھ والد صاحب اور بھائیوں نے پرانی عمارت کو گراکر نیچے والے حصے کو مکمل جوتوں کا شوروم بنالیا، اور اوپر ایک منزل پر گھر بناکر کرایہ پر دیدیا، اور کرایہ بدستور والد صاحب لیتے رہے7 جولائی 2006 میں والد صاحب کا انتقال ہوگیا، انتقال سے قبل 27 اپریل 2006 کو ایک اسٹامپ پیپر کے ذریعے یہ جائیداد 2بھائیوں محمد صدیق اکبر اور وقار اکبر کے نام وصیت کردی، یہ وصیت مجھ سے خفیہ رکھی گئی، اور تقریباً پندہ سال بعد 2021 کو میں نے پہلی بار وصیت دیکھی، واضح رہے کہ قانونی وسرکاری کا غذات 1982 سے لیکر آج تک میرے نام ہی ہیں۔
والد صاحب کے انتقال کے بعد سے اب تک اوپر کی منزل کا کرایہ میرے دونوں بھائی لیتے ہیں، اور پھر دونوں بھائیوں نے مل کر ایک مزید منزل تعمیر کی اور محمد وقار اکبر نے رہائش اختیار کرلی ،اور والد صاحب کے انتقال کے بعد سے اب تک کاروبار اور جائیداد کا قبضہ بھائیوں کے پاس ہے، تقریباً ایک سال سے جوتوں کا کاروبار ختم ہوچکا ہے، اور محمد اکبر نے وہاں رہائش بھی ترک کردی ہے، کرایہ دار کوبھی سات ماہ قبل نکال دیا ہے،لیکن دکان اور گھر میں سامان بدستور بھائیوں کا ہی پڑا ہوا ہے، یعنی قبضہ اب بھی انہیں کا ہے۔
چونکہ یہ جائیداد قانونی طور پر میرے نام ہے، اس لئے مجھ سے تقاضا کیا جارہا ہے کہ جائیداد فروخت کرکے رقم دونوں بھائیوں کو دیدوں، قانونی حیثیت تو واضح ہے، لیکن شرعی حیثیت مجھ پر واضح نہیں، اس بارے میں کچھ سوالات کی وضاحت آپ سے درکار ہے، قرآن وسنت کی روشنی میں جواب کا طلب گار ہوں۔
1 – جائیداد کا اصل مالک کون ہے؟
2- میں جائیداد فروخت کرکے دونوں بھائیوں میں تقسیم کرنے کا پابند ہوں یا تمام ورثاء میں تقسیم کروں؟تمام ورثاء میں تقسیم کی صورت کا شرعی تناسب بھی بتادیجئے؟
3- میرے ورثاء میں ایک بیوی ،دو بیٹیاں ہیں، کیا میں یہ جائیداد ان کی مرضی کے خلاف اپنے بہن بھائیوں کو دے سکتاہوں؟
نوٹ: جائیداد کے ملکیتی کا غذات اور وصیت کے اسٹامپ پیپر کی نقول سوال کے ساتھ منسلک ہیں، مذکور مکان بھی پہلے مکان کی طرح والد کے ہی تصرف میں تھا،مجھے یا بھائیوں کو والد صاحب کی حیات میں بیچنے وغیرہ کا اختیار نہیں تھا۔
ورثاء: ایک والدہ ، چار بھائی اور پانچ بہنیں ہیں ۔اللہ آپ سے راضی ہو، اور آپ کا مقام بلند فرمائے، آمین ثم آمین، یارب العالمین۔
سائل کے والد مرحوم نے اپنے مکان کا جو آدھا حصہ اپنے بڑے بیٹے مسمی محمد خورشید اکبر کے اگر فقط نام کیا تھا، باقاعدہ تقسیم کرکے اس کو مالکانہ قبضہ نہیں دیا تھا، تو یہ ہبہ (گفٹ) تام نہیں ہوا، بلکہ مذکور پورا مکان والد مرحوم کی ملکیت میں رہ کر اب انتقال کی صورت میں تمام ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہے۔
اسی طرح جو مکان سائل کے والد مرحوم نے سائل کے فقط نام پر خریدا تھا، اور وفات سے قبل وہی مکان اپنے دونوں بیٹوں مسمی محمد صدیق اکبر اور مسمی وقار اکبر کو صرف کاغذات کی حدتک گفٹ کیا تھا، ان تینوں کو اپنی صحت والی زندگی میں مالکانہ تصرف کا اختیار نہیں دیا تھا، تو مذکور مکان بھی بدستور والد مرحوم کی ملکیت میں رہ کر اب انتقال کی صورت میں تمام شرعی ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہے۔
جبکہ جن بیٹوں نے والد کی زندگی میں گھر کی تعمیر ومرمت وغیرہ میں قرض یا واپسی کی صراحت کے بغیر حصہ ملایا تھاتو یہ انکی طرف سے تبرع واحسان ہے، لہذا اب تقسیم جائیداد کے وقت ان کے لئے مذکور رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
البتہ جن بیٹوں نے مذکور مکان کرایہ پر دیکر اس سے حاصل شدہ کرایہ اپنے استعمال میں لایا ہو، تو ان کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ تقسیم ترکہ تک مذکور مکانات سے حاصل ہونے والا کرایہ بھی تمام ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا لازم ہے۔
اسکے بعد واضح ہوکہ سائل کے والد مرحوم کاترکہ اصول میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹابڑاگھریلوسازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہرواجب الاداء ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (3 / 1)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جوکچھ بچ جائے اس کے کل ایک سو، چار (104) حصے بنائیے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو تیرہ (13) حصے، ہر بیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو سات (7) حصے دیدئیے جائیں، جیساکہ ذیل کے نقشہ سے واضح ہورہا ہے، مزید سہولت کے لئے فیصدی حصے بھی لکھ دئیے گئے ہیں۔
مسئلہ: 8/104 (والد مرحوم) المضروب: 13
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
1 7
91
13 14 14 14 14 7 7 7 7 7
12.5% 13.461% 13.461% 13.461% 13.461% 6.730% 6.730% 6.730% 6.730% 6.730%
کما فی الھندیۃ: (الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز) . وتصح في محوز مفرغ عن أملاك الواهب وحقوقه ومشاع لا يقسم ولا يبقى منتفعا به بعد القسمة من جنس الانتفاع الذي كان قبل القسمة كالبيت الصغير والحمام الصغير ولا تصح في مشاع يقسم ويبقى منتفعا به قبل القسمة وبعدها، هكذا في الكافي. ويشترط أن يكون الموهوب مقسوما ومفرزا وقت القبض لا وقت الهبة بدليل أنه لو وهب له نصف الدار شائعا ولم يسلم حتى وهب النصف الآخر وسلم الكل تجوز، كذا في الظهيرية الخ (ج4 صـ376-377 کتاب الھبۃ ط: ماجدیۃ)۔
و فی رد المحتار: لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب الخ (ج4 صـ325 کتاب الشرکۃ ط: سعید)۔
کما فی درر الحکام: إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة: الاحتمال الأول - أن يكون المعمر صرف بإذن وأمر الشريك الآخر من ماله قدرا معروفا وعمر الملك المشترك للشركة أو أنشأه مجددا فيكون قسم من التعميرات الواقعة أو البناء ملكا للشريك الآمر ولو لم يشترط الشريك الآمر الرجوع على نفسه بالمصرف(الی قولہ) الاحتمال الثاني - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا كما سيبين في المادة (1131)۔ الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعهاالخ(ج3 صـٍ314-315 باب فی نفقات المشترکۃ ط: دارالحیل)۔
وفیہ ایضاً: ويستفاد من المثال أن ذلك خاص باستعمال الشريك بالذات، ولا دخل لإيجاره من آخر؛ لأن الشريك إذا لم يستعمل المال المشترك مستقلا بنفسه وأجره كله من آخر وأخذ أجرته لزمه رد أجرة شريكه إليه. مثلا لو آجر أحد الشركاء الحمام المشترك بين ثلاثة ولكل منهم ثلثه من آخر وأخذ أجرته لزمه أن يعطي لشريكيه ثلثي الأجرة وسنفصل هذه المسألة وتوضح في المادة (1077) لكن إيجار أحد الشركاء المال المشترك على هذا الوجه أو إعارته غير جائزة ديانة. إذ التصرف في ملك الغير بلا إذن حرام، ولا يمنع قضاء إذ الإنسان لا يمنع من التصرف فيما بيده إذا لم ينازعه فيه أحد (التنقيح، رد المحتار، علي أفندي) (ج1 صـ691 الکتاب الثانی الاجارۃ الفصل الاول ط: دار الجیل)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2