میرے والد کا 5 سال پہلے انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں ہم چار بھائی، تین بہنیں اور ایک والدہ تھی، مگر اب میری والدہ کا 12 جولائی 2024 کو انتقال ہوگیا ہے، اس نے مرتے وقت 44000 روپے کی نقد رقم اور اپنا حق مہرکا سونا جوکہ دو سے ڈھائی تولہ ہے، چھوڑا، اور ایک لاکھ پچاس ہزار کی رقم کسی کو بطور ادھار دے رکھی تھی، ہماری کل ملکیت تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ ہے،نقد رقم بھائیوں نے میت کے اخراجات میں خرچ کردی، اب میری والدہ کےحق مہر کا سونا بچا ہوا ہے،کیا یہ سونا ماں کی طرف سے بیٹیوں کو ملے گا یا بھابھیوں میں برابر برابرتقسیم ہوگا،حالانکہ سونا بیٹیوں کے حق میں جاتا ہے،اور وہ رقم جو ایک لاکھ پچاس ہزار ہے اسے کس طرح تقسیم کیا جائے،تین بھائی ایک گھر میں رہائش پذیر ہیں، اور ایک بھائی کرایہ کے مکان میں رہتا ہے،اس کے علاوہ 2 دکانیں اور ایک 10 کمروں کا مکان بھی ہے،جوکہ کرایہ پر دیا گیاہے،اس کا ماہانہ کرایہ تقریباً 40000روپے آتاہے،جوکہ اب تک والدہ گھر کے بلوں میں (گیس/بجلی وغیرہ میں) خرچ کرتی تھی، اور 2 دکانوں کا کرایہ جو بھائی گھر سے باہر کرایہ پر رہائشی ہے اسے دیتی تھی،مگر اب والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کرایہ پر لڑنے جھگڑنے کا خطرہ بھی ہے،اس لئے اس کا بھی کوئی حل بتا دیں۔
حصہ دار: 4 بھائی، 3 بہنیں ہیں، یہ بھی بتادیں کہ والدہ کا حصہ کس طرح تقسیم کیا جائیگا،اور جب والد صاحب حیات تھے تب ایک بیٹی نے ان کی دکانوں کے اوپر کچھ رقم خرچ کرکے اپنے لئے دو عدد کمروں کا مکان بنایا، والد صاحب کی اجازت اور رضامندی سے، اب وہ بیٹی اس مکان میں تقریباً 5 سال سے بغیر کسی کرایہ کےرہائش پذیر ہے،کیونکہ والد صاحب نے کہا تھاکہ یہ مکان میں نے اپنی مرضی سے اپنی بیٹی کو دیدیا ہے،اور جو رقم میری بیٹی نے اس مکان پر لگائی ہے وہ بھی میں اسے واپس کرونگا،اور یہ کہ میری بیٹی سے کوئی کرایہ نہیں لے گا،کیا اب والدین کے انتقال کے بعد گھر کا جو کرایہ آئیگا،اس میں میرا بھی حق ہے یا نہیں،اور والد کے انتقال کے بعد وراثت کے آٹھ حصے تھے،1حصہ والدہ کا 3حصے بہنوں کے، اور 4 حصے بھائیوں کے،جنکی ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی،اب والدہ کا انتقال ہوگیا ہے،ان کاحصہ بھی تمام وارثوں میں تقسیم کیا جائیگا،
والدہ مرحومہ کے حق مہر کا سونا کس طرح تقسیم کیا جائیگا،انکی طرف سے ایک لاکھ پچاس ہزار کی رقم جوکسی کو ادھار دی گئی ہےکس طرح تقسیم ہوگی؟
2 دکانوں اور10 کمروں کے مکان کا کرایہ جوکہ بھائیوں کی ذاتی رہائش سے الگ ہے،جس کا کرایہ آتا ہے،وہ کس طرح تقسیم ہوگا،کیا اس کرایہ میں بہنوں کا بھی حق ہے یا نہیں؟
جس بیٹی نے اپنی رقم سے دکانوں کے اوپر جو مکان بنایا تھا،والد صاحب کی مرضی اور اجازت سے ،اور اس میں بغیر کرایہ کے رہائش اختیار کی ہے،کیا وہ بیٹی بھی گھرکے کرایہ میں حق دار ہے یا نہیں؟
تقریباً ڈھائی سے تین کروڑ کے لگ بھگ ٹوٹل ملکیت کی جائیداد ہے، یہ کس طرح 3 بہنوں اور 4 بھائیوں میں تقسیم ہوگی؟رہنمائی فرمائیں۔
کیا والدہ کے حق مہر کا سونا بھابھیوں کے ساتھ بیٹیوں میں بھی برابر تقسیم کیا جائیگا،یا صرف بیٹیوں میں تقسیم کیا جائیگا؟ رہنمائی فرمائیں۔
سائل کی والدہ مرحومہ نے بوقت انتقال جو سونا اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اسی طرح جو رقم (150000)واجب الوصول ہے، وہ سارا کا سارا سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ ہے،یہ فقط سائل کی بہنوں یا بھابھیوں میں تقسیم نہ ہوگا، بلکہ دیگر ترکے کی طرح یہ سونا اور واجب الوصول رقم بھی مرحومہ کے تمام ورثاء (بیٹوں اور بیٹیوں) میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائےگی۔
اسی طرح سائل کے والدین مرحومین نے بوقت انتقال دیگر اشیاء کی طرح جو دکانیں اور10 کمروں پر مشتمل ایک مکان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ بھی مرحومین کا ترکہ ہے،جوکہ دیگر ترکہ کی طرح مرحومین کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا،البتہ اگر فی الحال تمام ورثاء مذکور دکان اور گھر کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے حسب سابق کرایہ پر برقرار رکھنے پر رضامند ہوں، تو ایسی صورت میں دکانوں اور مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم تمام ورثاء کے درمیان انکے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی، چنانچہ اگر سائل کے والدین مرحومین کے ورثاء میں فقط 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہوں، انکے علاوہ اور کوئی وارث موجود نہ ہو، تو مذکور دکان اور مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کو کل گیارہ (11) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ہر بیٹے کو دو (2) حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا،چنانچہ اگر مجموعی کرایہ چالیس ہزار (40000)روپے ہو تو اس میں سے ہر بیٹے کو سات ہزار ،دو سو ، بہتر(7272)روپے، اور ہر بیٹی کو تین ہزار، چھ سو ، چھتیس (3636) روپےدیےجائیں گے۔
جبکہ سائل کی جس بہن نے والد کی حیات میں انکی اجازت ورضامندی سے دکانوں کے اوپر اپنی ذاتی رقم سے اپنے لئے گھر بنایا ہے،فقط وہ بالائی منزل مذکور بہن کی ملکیت ہے، اس میں شرعاً کسی اور کا کوئی حصہ نہیں،اسکی وجہ سے وہ ترکے یا دکانوں اور مکانات سے حاصل شدہ رقم میں سے اپنے حصے سے محروم نہ ہوگی، بلکہ دیگر ورثاء کی طرح وہ بھی شرعاً اپنے حصے کی حقدار ہوگی۔
اسکے بعد واضح ہوکہ سائل کے والدین مرحومین کاترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ، مرحومین نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد،سونا،چاندی،نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹابڑاگھریلوسازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ،وہ سب مرحومین کا ترکہ ہے، جس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتو وہ ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کی ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جوکچھ بچ جائے اس کے کل گیارہ (11) حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دو (2) حصے، اور ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیدیا جائے -
کما فی شرح المجلۃ : الاموال المشترکۃ شرکۃ الملک تقسم حاصلاتھا بین اصحابھا علی قدر حصصھم (ج4 صـ14 المادۃ1073 الفصل الثانی: فی بیان کیفیۃ التصرف فی الاعیان المشترکۃ ط: رشیدیۃ)۔
و فی الدر المختار : ( وتتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( ولو الموھوب شاغلا لملک الواھب لامشغولا بہ ) والاصل ان الموھوب ان مشغولا بملک الواھب منع تمامھا و ان شاغلا لا الخ ( ج 5 صـ 690 – 691 کتاب الھبۃ ط : ایچ ایم سعید )۔
و فی الھندیۃ : وفیھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للمو ھوب لہ قبل القبض الخ ( ج 4 صـ 374 کتاب الھبۃ باب الاول فی تفسیر الھبۃ ط : ماجدیۃ ) ۔
و فیھا ایضا : رجل وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز فی القضاء ویکون آثما فیماصنع الخ ( ج 4 صـ 391 کتاب الھبۃ الباب السادس فی الھبۃ للصغیر ط : ماجدیۃ )۔