السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی تین بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے، قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت طلب ہے، مذکور شخص کی وراثتی زمین میں بیٹیوں کو کتنا حصہ ملے گا اور بیٹے کو کتنا ملے گا، قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں ۔
نوٹ: مذکور جائیداد والدین کی ہے، والد اور والدہ دونوں انتقال کرچکے ہیں، والدہ نے آج سے 32 سال پہلے اپنی ملکیتی جائیداد اپنے بیٹے کے نام کردی تھی اورباقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا اور یہ جائیداد والدہ کی اپنی ملکیت تھی شوہر کے ترکہ سے نہیں تھی۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃْ درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو صورتِ مسئولہ میں والدہ مرحومہ کو چاہیئے تھا کہ اپنا سارا مال و جائیداد فقط بیٹے کو دینے کے بجائے تمام اولاد کے درمیان برابر تقسیم کرتی، تاہم اگر مرحومہ نے ایسا نہ کیا ہو اور اپنا سارا مال و جائیداد مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے بیٹے کو ہبہ اور گفٹ کرکے اسے اس پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تھا تو شرعاً اس سے بیٹا مذکور جائیداد کا مالک بن چکا ہے، چنانچہ والدہ نے جو جائیداد بیٹے کو گفٹ کی ہے، اب اس میں شرعاً بہنوں کا کوئی حق نہ ہوگا، البتہ اس کے علاوہ جو جائیداد ہے وہ تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ والدہ مرحومہ نے ہبہ شدہ جائیداد کے علاوہ اگر بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں کچھ چھوڑا ہو تو وہ اور والد مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحومین کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں اگر یہ مصارف کسی نے بطور تبرع ادا کیے ہوں تو اب یہ ترکے سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل پانچ (5) حصّے بنائے جائیں جن میں سے مرحومین کے بیٹے کو دو (2) حصّے ،جبکہ ہر بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے -