میرے والد محترم کا انتقال ہوگیا ہے ،ابھی ہم 8بھائی اور دو بہنیں ہیں اور والدہ بھی حیات ہے، میرے بابا کی چھوڑی ہوئی میراث صرف 8لاکھ روپے ہیں ،وہ ہم سب میں کیسے تقسیم ہوگا؟
سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف , واجب الاداقرض اور بیوہ کے مہر کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد) اگر یہی رقم آٹھ لاکھ(800000)روپے بچتے ہوں ،اور مرحوم کے ورثاء بھی یہی ہو ں اس کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو ،تو مذکور رقم میں سے مرحوم کی بیوہ کو ایک لاکھ (100000)روپے،بیٹوں میں سے ہر ایک کو ستتر ہزار سات سو ستتر (77.777)روپے جبکہ ہر بیٹی کو اڑتیس ہزار آٹھ سو اٹھاسی(38.888) روپے دیے جائیں ۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0