ترکہ کی تقسیم (غیر شادی شدہ مرحوم کےصرف والدین ، 2 بھائی اور 3 بہنیں ہیں) بینک میں جمع کر نے کے لئے تحریری فتوی درکار ہے،شکریہ
صورت مسئولہ میں مذکور شخص مرحوم کے بہن بھائی والدین کی موجودگی میں شرعاً اپنے مرحوم بھائی کے ترکے میں حصہ دار نہیں ہونگے، بلکہ مرحوم کا ترکہ اس کے والدین کے درمیان حسب حصص شرعی تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مذکور شخص مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو سازو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر اس کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (3/1)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل چھ(6) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی والدہ کو ایک (1) حصہ ، اور والد کو پانچ (5) حصے دیئے جائیں۔
کمافی الدر المختار: ثم شرع في الحجب فقال (ولا يحرم ستة) من الورثة (بحال) ألبتة (الأب والأم والابن والبنت) أي الأبوان والولدان (والزوجان) وفريق يرثون بحال، ويحجبون حجب الحرمان بحال أخرى وهم غير هؤلاء الستة سواء كانوا عصبات أو ذوي فروض وهو مبني على أصلين أحدهما (أنه يحجب الأقرب ممن سواهم الأبعد) لما مر أنه يقدم الأقرب فالأقرب اتحدا في السبب أم لا (و) الثاني (أن من أدلى بشخص لا يرث معه) كابن الابن لا يرث مع الابن (إلا ولد الأم) الخ (فصل فی العصبات، ج6، ص 779، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2