میرے والد بینک میں اچھی پوزیشن کے ملازم تھے، ان کے انتقال کے بعد والدہ کو پنشن آتی ہے، ان کی وفات سے پہلے بینک کا کوئی کیس تھا ، اور اب ایک بڑی رقم جو انتقال سے پہلے کی تھی، بینک میں آتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ رقم والدہ کو ملے گی یا تمام وراثوں میں تقسیم ہو گی؟
صورت مسئولہ میں جو رقم سائل کی والدہ کو بطور پنشن بینک کی طرف سے دی جا رہی ہے وہ بینک کی جانب سے عطیہ ہے، جس پر سائل کی والدہ یعنی مرحوم کی بیوہ کا حق ہے ، لہذا اس رقم میں میراث کے احکا م جاری نہیں ہوں گے ، تاہم سائل کے بقول جو ایک بڑی رقم مرحوم کی وفات سے پہلے بینک کیس کی وجہ سے رکی ہوئی تھی اگر مرحوم کی زندگی میں اس پر اس کا حق ملکیت ثابت ہو چکا تھا محض ادائیگی بوجوہ تاخیر کا شکار تھی ، تو اس صورت میں اس رقم میں مرحوم کے تمام ورثاء اپنے حصصِ شرعیہ کے بقدر شریک ہوں گے ۔
کما فی البدائع: لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله سبحانه وتعالى أعلم الخ (کتاب الحدود، ج: 7، ص: 57، ط: سعید)۔
کما فی رد المحتار: الترکۃ فی الاصطلاح ما ترکہ المیت من الاموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الاموال کما فی شرح السراجیۃ الخ (کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 759، ط: ایج-ایم-سعید)۔
و فی الاشباہ و النظائر: العطاء لا یورث عنہ الخ (کتاب الفرائض، ج: 2، ص: 495، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2