کیا فرماتے علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے متعلق کہ پہلی بیوی مریم کے انتقال کے بعد شہاب الدین صاحب نے فاطمہ سے نکاح کیا , شہاب الدین صاحب نے انتقال کے وقت اپنے پیچھے بیوہ بی بی فاطمہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑیں، جس میں مریم کے بطن سے دو بیٹے غلام محمد اور احمد شیخ اور ایک بیٹی شریفہ شیخ اور دوسری بیوی فاطمہ کے بطن سے دو بیٹے عبدالعزیز اور ضیاء الدین شیخ اور ایک بیٹی سیدہ شیخ ہے , ابھی جائیداد کی تقسیم بھی نہیں ہوئی تھی کہ دوسری بیوی فاطمہ کا بھی انتقال ہو گیا انہوں نے اپنے پیچھے دو سگے بیٹے عبدالعزیز اور ضیاء الدین اور ایک بیٹی سیدہ شیخ چھوڑی اور دو سوتیلے بیٹے غلام محمد اور احمد شیخ اور ایک سوتیلی بیٹی شریفہ شیخ چھوڑی , پھر اس کے بعد میں سیدہ شیخ کا بھی انتقال ہو گیا لیکن وہ غیر شادی شدہ تھی انہوں نے اپنے پیچھے دو سگے بھائی عبدالعزیز اور ضیاء الدین اور دو سوتیلے بھائی غلام محمد اور احمد شیخ اور ایک بہن شریفہ شیخ کو چھوڑا دریافت طلب امر یہ ہے کہ شہاب الدین مرحوم کی متروکہ جائیداد مذکورہ وارثین کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی ؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیے اور عنداللہ ماجورہوں -
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص مسمٰی "شہاب الدین"مرحوم کا ترکہ ان کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصہ کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل ایک سو ساٹھ (160)حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کے دو بیٹوں (عبد العزیز اور ضیاء الدین) میں سے ہر ایک کو پینتالیس(45) حصے، بقیہ دو بیٹوں (غلام محمد اور احمد شیخ) میں سے ہر ایک بیٹے کو اٹھائیس (28) حصے، جبکہ مرحوم کی بیٹی(شریفہ شیخ) کو چودہ (14) حصے دیے جائیں -