کیا فر ماتے ہیں مفتیانِ کرام و فقہاءِ عظام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں ،ہمارے والد صاحب حاجی سلطان صاحب اس دنیا سے وفات پاچکے ، ان کی متروکہ جائیداد میں ایک مکان ہے ،جس کی لاگت مبلغ 90 لاکھ روپے لگی ہے ، مرحوم پر ایک بیوی کا ڈھائی تولہ سونا ،دوسری بیوی کا دوتولہ سونا اور اپنی بہو کا ایک تولہ سونا واجب الادا ہے ، نیز مرحوم کی نماز وروزہ کا فدیہ (58000)روپے بنتا ہے ، ورثاء میں مرحوم کی دو بیوہ ،پہلی بیوی سے چھ لڑکیاں اور تین لڑکے جبکہ دوسری بیوی سے دولڑکے اور ایک لڑکی ہے ، براہِ کرم یہ وضاحت فرمائیں کہ ازروئے شریعت ان ورثاء کو مذکورہ جائیداد میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا ؟بینواوتؤجروا۔
نوٹ:والد صاحب نے نماز روزوں کی فدیہ دینے کی وصیت بھی کی تھی ۔
اگرسائل کے والدصاحب نے اپنے ترکے میں مذکور مکان سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیدادسونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،اس میں سے کفن دفن کے متوسط مصارف منہا کرنے کے بعد سب سے پہلے مرحوم کے ذمہ بیواؤں اور بہو کا واجب الادا قرضہ ادا کریں ،پھر بقیہ مال میں سے مرحوم کی وصیت پر عمل کرکے نمازوں اور رزوں کا فدیہ دیا جا ئے،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے کل دوسوبہتر(272) حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی ہر بیوہ کو سترہ(17)حصے ، ہر بیٹے کو اٹھائیس (28)اور ہر بیٹی کو چودہ (14)حصے دیے جائیں -