کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دادا کا ا نتقال ہوچکا ہے، بوقت انتقال ان کے ورثاء میں تین بیٹے، اور دو بیٹیاں موجود تھیں، دادی کا انتقال پہلے ہی ہوگیا تھا، پھر دادا کے بعد میرے والد صاحب محمد آصف کا انتقال ہوا، ورثاء میں بیوہ ، چھ بیٹے، اور چار بیٹیاں موجود ہیں، اس کے بعد ایک اور بیٹے محمد ثاقب کا انتقال ہوا، وہ غیر شادی شدہ تھے، ورثاء میں ایک بھائی محمد کاشف اور دوبہنیں(امینہ بی بی،کلثوم بی بی) موجود ہیں۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ دادا مرحوم کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا، اور اگر کوئی وارث باقی ورثاء کو حصہ دینے میں ٹال مٹول یا بدتمیزی کررہا ہو تو ان کا کیا حکم ہے۔
واضح ہو کہ وراثت کی تقسیم جتنی جلدی ممکن ہو ، اتنی جلدی تقسیم کرکے اس فریضہ سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیئے ، تا کہ بعد میں کسی قسم کی بدمزگی ، آپس کے اختلافات ، لڑائی جھگڑے اور کسی کی حق تلفی کی نوبت نہ آئے، لہذا سائل کے دادا مرحوم کا ترکہ تقسیم کرنے میں اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو ورثاء میں سے کسی وارث کا بغیر کسی شرعی عذر کےترکے کی تقسیم میں ٹال مٹول کرنا یا دیگر ورثاء کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا درست نہیں، بلکہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو ورثاء کے مطالبے پر جلداز جلد ترکہ تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ حوالہ کردینا لازم اور ضروری ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کےدادا مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے موجود ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے ، مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر کے اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے کل پانچ سو بارہ(512) حصے کیے جائیں، جن میں سے بیٹے کو ایک سو بانوے(192) حصے،اور ہر بیٹی کو چھیانوے (96) حصے، اور بہو کو سولہ(16) حصے، اور ہر ایک پوتے کوچودہ(14) حصے، اور ہر پوتی کو سات(7) حصے دیے جائیں -
کما مشکوٰۃ المصابیح "عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين اھ".(باب الغصب والعارية، ج:1، ص:254،ط:قديمي)۔
وفی الدر المختار : (و قسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة و بطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) و في الخانية : يقسم بطلب كل و عليه الفتوى ، لكن المتون على الأول فعليها العول (و إن تضرر الكل لم يقسم إلا برضاهم) لئلا يعود على موضوعه بالنقض. (ج6،ص 260،ط:سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2