کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب مرحوم سید فیض الحسن کا آج سے تین سال قبل انتقال ہوچکا ہے بوقتِ نتقال مرحوم کے ورثاء میں دو بیوہ (پروین، سعیدہ) چار بیٹے (محمد فیصل، فیضان، فراز، عبد الحسیب) اور تین بیٹیاں (ندا، فضہ، اقراء) موجود تھیں، دادا، دادی کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم سید فیض الحسن کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
سائل کے والد مسمی سید فیض الحسن مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازو سامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں اگر یہ مصارف کسی نے بطور تبرع ادا کیے ہوں تو اب یہ ترکے سے منہا نہ ہوں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو یا اس نے بیواؤں میں سے کسی کا حق مہر ادا نہ کیا ہوتو وہ ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سو چہتر (176) حصّے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی ہر بیوہ کو گیارہ (11)حصّے ، ہر بیٹے کو اٹھائیس (28) حصّے، جبکہ ہر بیٹی کو چودہ (14)حصّے دیے جائیں -