کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیاہے، بوقتِ انتقال اُن کے ورثاء میں چار بیٹے (محمد یاسین، محمد ذکی، محمد آصف،محمد آفتاب)اور تین بیٹیاں (شاہدہ پروین،زاہدہ پروین،فرخندہ پروین) موجود تھیں، والدہ اور دادا،دادی کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائیگا؟
(نوٹ) ایک بیٹے (محمد شفیق) کا والد سے پہلے انتقال ہوگیا تھا، اُن کے ورثاء میں بیوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں، کیا ان کا حصہ بنتا ہے؟
واضح ہوکہ مورث کی حیات میں اگر کسی وارث کا انتقال ہوجائے تو قریبی ورثاء کی موجودگی میں وہ وارث اور اس کے پسماندگان،مورث کی وراثت میں شرعاً حصہ دار نہیں ہوتے،بلکہ محروم ہوجاتے ہیں،لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائلہ کے بھائی (مرحوم محمد شفیق) کا انتقال چونکہ والدِ مرحوم کی زندگی میں ہوا ہے اور بوقتِ انتقال مرحوم کے دیگر بیٹیاں اور بیٹے بھی موجود تھے،اس لئے مرحوم کی زندگی میں انتقال کرجانے والے بیٹے کی اولاد شرعاً مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہ ہوگی،البتہ اگر مرحوم کے ورثاء (موجودہ بیٹے اور بیٹیاں) اپنی مرضی سے اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ اور اولاد کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے ۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کے والدِ مرحوم کا ترکہ ا س کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصہ کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل گیارہ(11) حصے بنائے جائیں، جن مین سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو دو دو (2) حصے، جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک ایک (1) حصہ دیا جائے۔
کمافی الشامیة : ان شرط الارث وجود الوارث حیا عند موت المورث اھ (ج6،صـــ769،ط:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2