والد نےاپنے جسمانی طور پر معذور بیٹے کے نام 1970 میں ایک جائیداد خریدی، یعنی خریداری کی دستاویزات پر خریدار یہی معذور بیٹا ہے، اس وقت بیٹے کی عمر 18 سال تھی، والد نے اپنی ساری زندگی میں اس جائیداد کا نہ تو قبضہ اس بیٹے کو دیا اور نہ ہی اس بیٹے کو اس جائیداد کی آمدنی، جو کہ فلیٹس کے کرائے کی صورت میں آتی تھی، کبھی حق دار بنایا، نہ ہی کبھی بیٹے نے والد کی زندگی میں کرایہ خود وصول کیا ،کیونکہ یہ بیٹا والد کی کفالت میں رہا، والد نے اپنی تمام اولاد، جن میں کل 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں تھیں، سب کے سامنے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ میں نے اس بیٹے کو جائیداد میں حصہ دے دیا ہے، اب باقی جائیداد میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے اور اس کے نام کروانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ یہ معذور ہے، اسے بعد میں کوئی وقت اور پریشانی نہ ہو، 1983 میں والد کی وفات ہو گئی، جائیداد کی تقسیم کا معاملہ پیش آیا تو اس معذور بیٹے نے، جسے پہلے ہی حصہ مل چکا تھا، باقی جائیداد میں سے بھی اپنا برابر کا شرعی حصہ طلب کیا، اس وجہ سے تنازع کھڑا ہو گیا اور اب 2024 میں 41 سال گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔ آپ سے گزارش ہے کہ بتائیں کہ کیا اس معذور بیٹے کا باقی جائیداد میں شرعی اعتبار سے کوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے یا ز بانی کسی کو دیدنے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ نہ دے دیا جائے ،لہذا سائل کےوالد مرحوم نے اگر چہ مذکور مکان کے متعلق زبانی کلامی یہ کہہ دیا تھا کہ "یہ مکان میرے فلاں بیٹے کا ہے" لیکن اگر سائل کے والد مرحوم نے معذور بیٹے کو اپنی زندگی میں مذکور مکان باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ حوالہ نہ کیا ہو ، تو محض زبانی یہ کہہ دینے سے کہ "یہ مکان میرے فلاں بیٹے کا ہے" شرعاً سائل کا بھائی اس مکان کا مالک نہیں بنا , بلکہ مذکور مکان مرحوم کی وفات تک بدستور اس کی ملکیت میں رہا ، جو اب ان کے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کی طرح سائل سمیت اس کے تمام شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ ِ شرعیہ تقسیم ہوگا،جبکہ بوقت ضرورت ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر تقسیم کا شرعی طریقہ کار معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کما الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها و إن شاغلاً لا ، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه ، أو دابةً عليها سرجه و سلمها كذلك لا تصح ، و بعكسه تصح في الطعام و المتاع و السرج فقط ؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن و صدقة لأن القبض شرط تمامها و تمامه في العمادية ۔(5/690)۔
و فی الفتاوى التاتارخانیة : "و في المنتقى عن أبي يوسف : لايجوز للرجل أن يهب لامرأته و أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارًا و هما فيها ساكنان و كذلك الهبة للولد الكبير لأن يد الواهب ثابتة علي الدار .(14/431)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2