السلام علیکم !
مفتی صاحب میں محمد اکرم آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرا مسئلہ اسلامی طور سے حل کریں،میری زوجہ محترمہ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکی ہیں،میں نے اپنی کمائی سے دو عدد پلاٹ ان کے نام سے خریدے تھے،جن کی مالیت ایک کروڑ تیس لاکھ (13000000 ) روپے ہے،یہ جائیداد میں نے فروخت کردی ہے،اس جائیداد کے وارث میں ان کا شوہر اور تین بیٹے ،چھ بیٹیاں شامل ہیں اور میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ مجھے دین کی روشنی میں بتادیں کہ میرا , بیٹوں اور بیٹیوں کا اسلامی طور پر جتنا حصہ بنتا ہے،آپ ہمیں تفصیل سےتحریر کردیں اور میرے سب بچے بالغ اور شادی شدہ ہیں۔شکریہ
نوٹ: شوہر کے بقول زوجہ مرحومہ کو مذکور نام کردہ مکانوں پر قبضہ اور تصرف کا اختیار دیا ہوا تھا،مرحومہ کے والدین میں سے بھی کوئی حیات نہیں۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور دو عدد پلاٹ باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیےتھے، تو یہ ہبہ شرعاً تام ہوکر وہ ان پلاٹوں کی مالک بن چکی تھی اور اب اس کے انتقال کے بعد دیگر ترکہ کے ساتھ شامل ہوکر اصولِ میراث کے مطابق تمام ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کی بیوی مرحومہ کا ترکہ اس کے موجود تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الاداءہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) حصہ کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سولہ(16) حصے بنائے جائیں،جن میں سے مرحومہ کے شوہر کو چار(4) حصے، ہر بیٹے کو(2) حصے ، جبکہ ہر بیٹی کو (1) حصہ دیا جائے -
و فی الھندیۃ : و منھا ان یکون الموھوب مقبوضا حتی لا یثبت الملک للموھوب لہ قبل القبض الخ ( ج4 ص 374 کتاب الھبۃ ط: ماجدیۃ)۔