تصویر سازی

اموجیز سے متعلق تصویر ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
76870
| تاریخ :
2024-07-26
معاشرت زندگی / فنون و حرفت / تصویر سازی

اموجیز سے متعلق تصویر ہونے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ناکارہ امید کرتا ہے کہ مزاج عالی حضرت الأستاذ ہم سب کے سروں کے تاج حضرت مفتی صاحب بخیر و عافیت ہوں گے!
بعدہ استدعاء ہے کہ حضرت موبائل وغیرہ کے ذریعے جو اموجیز ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں، ان اموجیز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ یہ تصویر کی مانند سمجھ کر ناجائز ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں کافی لوگ کشمکش میں مبتلا ہیں اور بحث ومباحثہ بھی کررہے ہیں گروپ وغیرہ میں ۔راہ نمائی فرماکر ممنون ومشکور ہوں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مذکور اموجیز سے متعلق بھی علماءِ کرام کی وہی رائےہے جو ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں ہے، لہذا جن علماء کا مؤقّف ڈیجیٹل تصویرکے جواز کا ہے ،ان کے نزدیک جاندار کی اموجیز کے استعمال کی بھی گنجائش ہوگی،جبکہ جن علماء کے نزدیک ڈیجیٹل تصویر ،تصویرِ محرّم میں داخل ہے،ان کے نزدیک اموجیز کا استعمال بھی شرعاً جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تکملۃ فتح الملھم (4/98)
أما التلفزیون والفیدیو . . . ھل یتأتی فیھما حکم التصویر بحیث إذا کان التلفزیون أو الفیدیو خالیاً من ھذہ المنکرات بأسرھا، ھل یحرم بالنظر إلی کونہ تصویراً، فإنّ لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ، فیہ وقفۃ، وذلک لأنّ الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ أو منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الإستقرار علیٰ شیئ، وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادۃ. أمّا الصورۃ التی لیس لھا ثبات واستقرار، ولیست منقوشۃ علیٰ شیئی بصفۃ دائمۃ فإنّھا بالظّل أشبہ منھا بالصورۃ، ویبدو أنّ صورۃ التلفزیون والفیدیو لا تستقر علی شیئ فی مرحلۃ من المراحل،إلّا إذا کان فی صورۃ فیلم، فإن کانت صور الإنسان حیّۃ بحیث یبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الإنسان أمام الکامیرا، فإنّ الصورۃ لا تستقرّ أمام الکامیرا، ولا علی الشاشۃ، وإنّما ھی أجزاء کھربائیۃ تنتقل من الکامیرا إلی الشاشۃ، وتظھر علیھا بترتیبھا الأصلی ثمہ تفنی وتزول . . . وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76870کی تصدیق کریں
2     837
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات