السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
جناب حضرت مجھے جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے فتویٰ معلوم کرنا ہے، جائیداد مالیت (100،00000) ایک کروڑ ہے وراثت میں 2 بھائی ،3 بہنیں ہیں ،براہ مہربانی تقسیم کا صحیح اور جائز طریقہ بتا دیں۔شکریہ جزاک اللہ خیراً
سوال میں مذکور شخص مرحوم کے ورثاء میں اگر فقط دو(2) بیٹے اور تین (3) بیٹیاں موجود ہوں ان کے علاوہ اور کوئی وارث موجود نہ ہو تو مرحوم کا تر کہ اصولِ میراث مطابق ان کے موجود ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد سونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجب الادا ہو تو اسے ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل سات(7)حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کودو (2) حصے اورہر بیٹی کو ایک (1)حصہ دیا جائے -