کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے دادا رحمت گل کا انتقال ہوا ، بوقت انتقال ان کے ورثاء میں بیوہ (اکو) دو بیٹے( شیر افضل خان اور فضل الرحیم )تھے ، اس کے بعد دادی کا انتقال ہو گیا تھا ، ورثاء میں دو بیٹے شیر افضل خان اور فضل الرحیم عرف باچاک ,موجود تھے ، اس کے بعد ہمارے والد صاحب شیر افضل خان کا انتقال ہو گیا ، ورثاء میں بیوہ (حسن پری) ، پانچ بیٹے (فضل ربی، محمد ربی، عبد الرب، محمد سلیم، امداد اللہ ) اور چھ بیٹیاں( بختیاره بی بی ، سرداره بی بی ، صفیہ بی بی ، سلطانہ ، اسماء، بخت مینہ ) موجود تھیں ,اس کے بعد شیر افضل خان کے بیٹے محمد ربی کا انتقال ہوا ، ورثا میں دو بیٹے ( عبا د اللہ ، عباد الرحمن ) ایک بیٹی بخت بی بی اور بیوہ حنیفہ اور والدہ موجود تھی ، اس کے بعد ہماری والدہ( شیر افضل خان کی بیوہ )کا انتقال ہوا، ور ثاء میں چار بیٹے ( فضل ربی ، عبد الرب، محمد سلیم، امداد اللہ) اور مذکورہ چھ بیٹیاں موجود ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارے دادا مرحوم رحمت گل کی جائیداد مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم ہوگی ؟ نیز ہماری والده مرحومہ کو ہمارے دادا نے اپنی زندگی میں حق مہر کے عوض جائیداد د ی تھی ، وہ ہماری والدہ مرحومہ کا حق بنتا ہے کہ نہیں ؟ جو بھی شرعی حکم ہوتفصیل سے تحریر فرما ئیں ۔
سائل کے دادا مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹے کی جانب سے بطورِ تبرع اپنی بہو ( سائل کی والدہ ) کو حق مہر کے عوض جو جائیداد دی تھی ، تو وہ اس جائیداد کی مالک بن چکی تھی ، لہذا دادا مرحوم کے ترکہ تقسیم کرتے وقت وہ جائیداد دیگر ترکہ کے ساتھ شامل نہ ہوگی ، بلکہ وہ سائل کی والدہ کی ملکیت تھی ، جو اب اس کے انتقال ہوجانے کے بعد صرف ان ہی کے شرعی ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم دادا کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعددیکھیں کہ اگر ان کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک لاکھ سات ہزار پانچ سو بیس (1,07,520) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے مرحوم کے بیٹے کو تریپن ہزار سات سو ساٹھ (53760) حصے ، ہر ایک پوتے کو چھ ہزار نو سو اسی (6980) حصے ، ہر ایک پوتی کو تین ہزار چار سو نوے (3490) حصے ، مرحوم پوتے کی بیوہ کو سات سو پینتیس (735) حصے ، مرحوم پوتے کے ہر بیٹے کو ایک ہزار چھ سو چھیا سٹھ (1666 ) حصے ، جبکہ مرحوم پوتے کی بیٹی کو آٹھ سو تینتیس (833) حصے دیے جائیں -
كما في تنوير الأبصار : يبدأ من تركة الميت الخالية من حق الغير (إلى قوله) بتجهيزہ من غير تقتير ولا تبذير ثم ديونه التى لها مطالب من جهة العباد ثم وصيته من ثلث ما بقي ثم يقسم الباقي بين ورثته (كتاب الفرائض ، ج 6 ، ص ٧٥9 ، ط : سعيد)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2